تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 263
۲۵۴ ++ میں کہا کہ ہم اندر بالکل نہیں بیٹھے۔اتنے میں مرزا مظفر احمد نے کہا کہ میں جب آیا تھا تو اس وقت بھی یہ سب سپاہی اندر بیٹھے تھے۔اور نہ صرف اندر بیٹھے ہوئے تھے بلکہ ایک سپاہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ خلات قانون اپنی بیٹی کھول کر میٹھا تھا۔گروہ یہی کہتے چلے گئے کہ ہم اندر نہیں گئے۔اس پر میں نے انہیں کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ آج مجھے ذاتی طور پر اس بات کا تجربہ ہواکہ عدالتیں کن جھوٹے آدمیوں کی گواہیوں پر لوگوں کو سزا دیتی ہیں۔میں نے اُن سے کہا کہ تم وہ ہو کہ تمہیں اس بات کا علم ہے کہ میں تمہارے پاس آیا اور میں نے تمہیں اندر بیٹھے دیکھا ایک وقعہ نہیں بلکہ تین دفعہ پھر تم نے در و صاحت یہاں باتیں کیں تم نے خلیل احمد کیا تم نے یہاں نہیں کیں۔تم نے ناصر احمد سے یہاں باتیں کیں اور تم میں سے ہر شخص جانتا ہے کہ جو کچھ میں کہ رہا ہوں وہ درست ہے مگر اتنے گواہوں کے باوجود تم کہہ رہے ہو کہ تم اندر نہیں میٹھے میں قسم کا جھوٹ تم لوگ بول رہے ہو اس قسم کی گواہیوں پر علاقوں کی طرف سے لوگوں کو سزاؤں کا ملنا یقینا نہایت ہی افسوسناک اور ظالمانہ فعل ہے۔اس پر وہ کچھ لکھ پانے سے ہو گئے مگر اقرار انہوں نے پھر بھی نہ کیا کہ وہ کمرہ کے اندر بیٹھے تھے جب میں نے دیکھا کہ وہ اس طرح کھلے طور پر جھوٹ بول ہے ہیں تومیں نے خیال کیا کہ نا معلوم ہمارے متعلق وہ اندر کیا باتیں بنائیں۔شاید وہ یہی کہہ دیں کہ ہم پر انہوں نے حملہ کر دیا تھا ور ہمیں مارنے پیٹنے لگ گئے تھے۔اس لئے میں نے مرزا مظفر احمد سے کہا کہ مظفر اس ملک میں احمدیوں کے قول پر کوئی اعتبار نہیں کرتا تم تعلیم یافتہ و عہدیدار ہولیکن پھر بھی اگر کوئی واقعہ ہوا تو تمہاری کسی بات پر اعتبار نہیں کیا جائیگا یا کہ اختیار انہی لوگوں کی بات پر کیا جائیگا۔اس لئے بہتر ہے کہ ان واقعات کی شہادت کے لئے کسی اور کو بھی بلا لیا جائے۔ہمارے ہمسایہ میں ایک غیر احمدی ڈپٹی کمشنر صاحب چھٹی پر آئے ہوئے تھے میں نے مرزا مظفر احمد سے کہا که خورا نیکی اور ایک آدمی دوڑا دیا جائے اور کہا جائے کہ ایک ضروری کام ہے آپ مہربانی کر کے تھوڑی دیر کے لئے تشریف لے آئیں۔میرا منشاء یہ تھا کہ وہ آئیں تو اس واقعہ کے گواہ بن جائیں گے۔چنانچہ مرزا مظفر احمد نے ان کی طرف ایک آدمی دوڑا دیا کہ ضروری کام ہے آپ جلدی تشریف لائیں۔اسکے بعد دیں پھر اوپر چلا گیا۔اتنے میں نیچے سے مجھے آوازیں آئیں۔اور میں نے آواز سے پہچان لیا کہ ٹھیک کر صاحب آگئے ہیں اور وہ اُن سپاہیوں سے بات کر رہے تھے اور کہو رہے تھے تم نے صریح خلا اور اتوں