تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 262
۲۵۳ نہیں ہو سکتے۔اور اگر وہ داخل ہوں تو اس صورت میں انہیں اپنی تلاشی دینی ضروری ہوتی ہے۔کیونکہ کیا پتہ کہ وہ کوئی ناجائز چیز اندر پھینک جائیں۔اس لئے قانون یہی کہتا ہے کہ پولیس کی پہلے تراشی ہونی ضروری ہے۔ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی طرف سے کوئی نا جائز چیز پھینک دے اور گھر والوں کو مجرم بنادی۔پھر انہوں نے پو چھا کہ کیا پولیس والوں کی تلاشی سے لی گئی تھی۔میں نے کہا کہ میرے علم میں تو یہ بات نہیں آئی کہ پولیس والوں کی تلاشی لی گئی ہو۔اسپر وہ کہنے لگے کہ یہ درد صاحب کا فرض تھا کہ پولیس والوں کو اللہ نہ آنے دیتے۔مرزا ناصر احمد نے چونکہ بیرسٹری کی بھی کچھ تعلیم پائی تھی وہ کچھ قانون سے واقعت ہیں۔میں نے کہا کہ جب پولیس والوں کو قانوناً یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسرے کے مکان میں داخل ہوں تو پھر جاؤ اور ان کو قائل کرو۔اس پردہ نیچے آئے اور پولیس والوں سے اونچی باتیں کرنے لگے۔مرزا ناصر احد کی آواز ذرا زیادہ بلند تھی میں نے اس وقت یہ خیال کیا کہ یہ بچہ ہے ابھی پورا تجربہ نہیں ہم اس وقت چاروں طرف سے دشمنوں میں گھرے ہوئے ہیں۔اگر اس نے کوئی بات کی تو ممکن ہے کہ پولیس والے اس پر کوئی الزام لگا دیں کہ اس نے ہم پر دست درازی کی ہے اس لئے میں جلدی سے نیچے اترا اس وقت پولیس والے اندر کمرے سے نکل کو برآمادہ میں آپکے تھے اور مرزا ناصر احمد انہیں یہ کہہ رہے تھے کہ تم جہاں اندر بیٹھے تھے ہیں جابیٹھو ئیں اسی حالت میں تمہاری تصویر لینا چاہتا ہوں اور دہ کہہ رہے تھے کہ ہم وہاں نہیں جاتے ہیں نے جب ان کی یہ باتیں سنیں تو میں نے سپاہیوں سے کہا کہ تم سب پہلے اندر بیٹھے ہوئے تھے اور کئی بھلے مانس اس کے گواہ ہیں میں نے خود تمہیں اندر بیٹھے دیکھا۔درد صاحب نے تمہیں اندر بیٹھے دیکھا۔مرزا مظفر احمد اور مرزا ناصر احمد نے تمہیں اندر بیٹھے دیکھا۔ہمارے عملہ کے اور کئی آدمیوں نے تم کو اندر بیٹھے دیکھا ہے۔اب اس میں تمہارا کیا حرج ہے کہ پھر تم وہیں جا مٹھو اور تمہاری اس وقت کی تصویر لے لی جائے۔اگر تمہارا اللہ آنا قانون کے مطابق تھا تو تم اب بھی ہیں بیٹھ سکتے ہو اور اگر تمہارا اندر پیچھا قانون کے خلاف تھا تو تم اپنی غلطی کا اقرار کرو۔اس پر وہ کہنے لگے کہ ہم تو اندر بیٹھے ہی نہیں۔میں نے ان سے کہا کہ تین دفعہ تومیں نے تمہیں اندر بیٹھے دیکھا ہے۔اسی طرح درد صاحب نے تمہیں اندر بیٹھے دیکھا ہے خلیل احمد سے جو تم نے باتیں کیں وہ اندر ہی کیں۔اسی طرح تمہیں مظفر احمد نے اندر دیکھا ناصر احمد نے اندر دیکھا۔اب تم کیس طرح کہ رہے ہو کہ تم اندر بیٹھے ہی نہیں اور اتنابڑا جھوٹ بولتے ہو۔گھر اس پر بھی انہوں نے