تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 7 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 7

میں پڑھا" حضرت امیر المومنین نے پتے اس اپر شوکت خطبہ کے آخر میں ارشاد فرمایا کہ :۔اگر ہم اس رنگ میں کوشش نہیں کریں گے تو اس وقت تک ہماری نئی فصل کبھی کامیاب نہیں کہلا سکتی۔مگر یہ کام ویسا ہی ناممکن ہے جیسا آج سے پچاس سال پہلے نظر آتا تھا۔پھر اس وقت خدا کا ایک نبی کھڑا تھا۔بے شک اس وقت کوئی احمدی نہ تھا مگر بخدا کا نبی دُنیا میں موجود تھا ہو اس پیغام کو لے کر دنیا میں کھڑا تھا۔مگر آج وہ نبی ہم میں موجود نہیں اور اس وجہ سے ہماری آواز میں وہ شوکت نہیں جو اس کی آواز میں شوکت تھی۔پس آج ہمیں اس سے زیادہ آواز بلند کرنی پڑے گی اور تمہیں اس سے زیادہ قربانیاں کرنی پڑیں گی۔اس کے لئے ڈھائیں بھی کرو اور اللہ تعالیٰ کے دروازہ کو کھٹکٹا اور یاد رکھو کہ جب تک جماعت دکھاؤں پر یقین رکھے گی۔جب تک تم ہر بات میں اللہ تعالیٰ سے امداد کے طالب رہو گے اس وقت تک تمہارے کاموں میں برکت رہے گی۔مگر جس دن تم یہ سمجھو گے کہ یہ کام تم نے کیا ، جس دن تم یہ سمجھو گے کہ یہ نتائج تمہاری محنت سے نکلے اور جس دن تم یہ کجھو گے کہ یہ ترقی تمہاری کوششوں کا نتیجہ ہے اُس دن تمہارے کاموں میں سے برکتیں بھی جاتی رہیں گی۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ آج دنیا میں تم سے بہت زیادہ طاقتور تو میں موجود ہیں مگر ان سے کوئی نہیں ڈرتا اور تم سے سب لوگ ڈرتے ہیں۔اس کی کیا وجہ ہے ؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ تمہاری مثال اس تار کی سی ہے جس کے پیچھے بجلی کی طاقت ہوتی ہے۔اب اگر تار یہ خیال کرے کہ لوگ مجھ سے ڈرتے ہیں تو یہ اس کی حماقت ہوگئی۔کیونکہ لوگ تار سے نہیں بلکہ اس پھلی سے ڈرتے ہیں جو اس تار کے پیچھے ہوتی ہے۔جب تک اس میں بجلی رہتی ہے ایک طاقتور آدمی بھی اگر تار پر ہاتھ رکھے تو وہ اس کے ہاتھ کو بھلا دے گی۔لیکن اگر بھلی نہ رہے تو ایک کمزور انسان بھی الحسین تار کو توڑ پھوڑ سکتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھو اور اس پھیلی کو اپنے اندر سے نکلنے نہ دو۔بلکہ اُسے بڑھاؤ اور ترقی دور۔تبھی تم کامیابی کو دیکھ سکتے اور نئی فصل زیادہ شاندار اور زیادہ عمدگی کے ساتھ پیدا کر سکتے ہو۔لیکن اگر یہ جعلی نکل گئی تو پھر تم کچھ بھی نہیں رہو گے۔ہاں اگر یہ عجیلی رہی تو دنیا کی کوئی طاقت تمہارا مقابلہ نہیں کر سکے گی اور اس صورت میں تمہارا یہ عزم کہ تم اگلے پچاس سال میں تمام دنیا پر چھا بھاؤ، ناممکن نہیں ہو گا۔کیونکہ کام مفدا نے کرنا ہے اور خدا