تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 252 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 252

سلام سلام ال۔۔۔کسی کو بہائیں اور کسی کو بنگال میں اور کسی کو یوپی میں بیعت کی توفیق ہوئی، اور ان صرب نے اپنی اپنی جگہ پر حمایت کو پھیلانا شروع کر دیا۔انہی میں سے ایک حیدر آباد کی جماعت ہے جو یہاں سے تقریبا ڈیڑھ ہزار میل دور ہے۔بیچ میں ایک لمبا علاقہ ہے جہاں نام کو بھی کوئی احمدی نہیں سی پی کا علاقہ بیچ میں ہے اُس میں جتنے احمدی ہیں وہ سب ملا کر بھی شاید شہر حیدر آباد کی جماعت کے برابر نہ ہوں۔یوپی میں بھی بہت کم ہیں۔اور ان مدرب علاقوں کو پار کر کے اللہ تعالے نے حیدر آباد میں ایک جماعت پیدا کر دی اور وہاں ایسے مخلص احباب پیدا ہوئے جنہوں نے احمدیت کے لئے بہت قربانیاں کی ہیں اور ایثار سے کام کیا وہاں جماعت مولوی محمد سعید صاحب کے ذریعہ قائم ہوئی۔المیہ میں ایک گاؤں سنیل پور سارے کا سارا احمدی ہے۔اور وہ بھی در اصل حیدر آباد کی ہی پیدا شدہ جماعت ہے۔سید عبد الرحیم صاحب وہاں کے رہنے والے حیدر آباد آگئے تھے وہاں وہ موبی بی پرسید صاحب سے ملے۔مولوی صاحب نے انہیں تبلیغ کی اور بعض کتب میں بھی دیں جن کے مطالعہ سے وہ احمدی ہو گئے اور پھر اُن کے اثر کی وجہ سے یہ گاؤں سارے کا سارا احمدی ہو گیا۔اس وقت میں جن کی لڑکی کے نکایج کا اعلان کرنے والا ہوں وہ حیدر آباد کے رہنے والے سیٹھ محمد غوث ہیں وہ بھی اُن مخلصین میں میں جنگا دل خدمت سلسلہ کے لئے گداز ہے اور وہ اسوین کا بہت ہی احساس رکھتے ہیں ہیں تو وہ پہلے سے احمدی مگر میرے ساتھ اُن کی واقفیت جو ہوئی تو وہ صبح کو جاتے ہوئے ۱۹ ء میں ہوئی تھی۔شاید اُن کو علم ہو کہ میں جا رہا ہوں یا شاید وہ تجارت کے سلسلے میں وہاں آئے ہوئے تھے۔بہر حال اُن سے میری پہلی ملاقات وہاں ہوئی اور پھر ایسے تعلقات ہو گئے کہ گویا واحد گھر کی صورت پیدا ہو گئی مستورات کے بھی آپس میں تعلقات ہو گئے۔حج کے موقعہ پر عبد ابھی عرب بھی میرے ساتھ تھے وہاں سے روانگی کے وقت سیٹھ صاحب نے اُن کو بعض چیزیں دیں جن میں ایک گلاس بھی تھا۔وہ انہوں نے عبد الحی صاحب کو یہ کہہ کر دیا تھا کہ جب آپ اس میں پانی پیئیں گے تو میں یاد آجاؤنگا اور اس طرح آپ میرے لئے دعا کی تحریک کر سکیں گے۔غرض سیٹھ صاحب حیدر آباد کے نہایت مخلص لوگوں میں سے ہیں۔چندہ کی فراہمی کے لحاظ سے ، جماعت میں اتحاد و اتفاق قائم رکھنے کے لحاظ سے انہوں نے بہت اچھا کام گیا ہے اور بغیر اس کے کہ کوئی وقفہ پڑا ہو گیا۔اور اُن کے اخلاص کا ہی نتیجہ ہے کہ اُن کو اولاد بھی اللہ تعالی نے مخلص دی ہے۔بعض لوگ خود تو مخلص ہوتے ہیں مگر اُن کی اولاد میں وہ اخلاص نہیں ہو تا گر میٹھے نصاب