تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 253 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 253

۲۴۴ کی اولاد بھی مخلص ہے۔ان کے بڑے لڑکے محمد عظیم صاحب میں ایسا اخلاص ہے جو کہ نوجوانوں میں ہوتا ہے تبلیغ ور تربت کی اور انہیں خاص توجہ میں نے دیکھا ہے۔ریاستوں والی کرنے و ا ا ا و ر پر تے میں ہر کوئی بات وہی تو ایک معقد و بعد بی تو کیتے تے ہیں اور وہ یا تو ان میں تو پیدا کرتے رہتے ہیں۔اور اب بھی نوجوان میں جوش پیدا کرتے رہے ہیں۔کر کے معین الدین میں بھی بہت خاص سے سلسلہ کے کاموں میں حصہ لیتے اورخدام الاحمدیہ کی تحریک میں بہت جدو جہد کرتے ہیں۔ہاتھ سے کام کی نے کی تحریک کو مقبول بنانے کا بھی انہیں شوق ہے۔لڑکیوں میں سے اُن کی بڑی لڑکیوں کے تعلقات امتد الحی مرحومہ کے ساتھ تھے۔پھر اُن کی چھوٹی لڑکی خلیل کے ساتھ بیاہی گئی جو تحریک جدید کا مجاہد ہے۔اس لڑکی کے امتہ القیوم کے ساتھ بہنوں جیسے تعلقات ہیں اور شروع سے اب تک اس خاندان نے ایسے اخلاص کے ساتھ تعلق کھا اور اسے نبھایا ہے کہ اس میں کبھی بھی کمی نہیں آئی۔اللہ تعالیٰ ایسے مخلصین کے لئے ذرائع بھی خود مہیا کرتا ہے۔ان کے لڑکوں کی شادیاں بھی ایسے گھرانوں میں ہوئی ہیں جو بہت مخلص ہیں۔محمد اعظم کی شادی حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے مخلص اور دائی های حکیم مرسین صاحب قرشی موجد مفرح عنبری کی لڑکی ہوئی ہے موجود قریشی صاحب بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ابتدائی صحابہ میں سے تھے اور ایسے مخلص تھے کہ الہ تعلی نے ہر ابتلاء سے انہیں بچا لیا۔جب پہلے پہل خلافت کا جھگڑا اُٹھا تو خواجہ صاحب اور اُن کے ساتھیوں نے لاہور کی جماعت کو جمع کیا اور کہا کہ دیکھو سلسلہ کس طرح تباہ ہونے لگا ہے۔یہ حضرت خلیفہ امسیح الاول کی خلافت کا زمانہ تھا جب میر محمد اسحاق صاحب نے بعض سوالات لکھ کر آپ کو دیئے تھے اور آپ نے جواب کے لئے وہ باہر کی جماعتوں کو بھجوا دیئے۔اس وقت لاہور کی ساری کی ساری جماعت اس پر شفق ہوگئی منفی کہ دستخط کرکے خلیفہ اول کو بھجوائے جائیں کہ خلافت کا یہ طریق احمد یہ جماعت میں نہیں بلکہ اصل ذمہ دار جماعت کی انجمن ہے۔جب سب لوگ امر امر کی تصدیق کر رہے تھے قریشی صاحب خاموش بیٹھے رہے کہ میں سب سے آخر میں اپنی رائے بتاؤنگا۔آخر پر ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے بڑے زور سے اس خیال کی تمدید کی اور کہا کہ یہ گستاخی ہے کہ ہم خلیفہ کے اختیارات معین کریں ہم نے اُن کی بیعت کی ہے اس لئے ایسی باتیں جائزہ نہیں۔وہ آخری آدمی تھے اُن سے پہلے سب اپنی اپنی رائے ظاہر کر چکے تھے مگر ان کے اخلاص کا نتیجہ تھا کہ سب لوگوں کی سمجھ میں یہ بات آگئی اور خواجہ صاحب کے مویار صرف وہ لوگ رہ گئے جو ان کے ساتھ خاص تعلقات رکھتے تھے۔اسی طرح میری خلافت کے ابتدائی ایام میں بھی غیر مبائین سے مقابلہ کرنے میں بڑی