تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 251
۲۴۲ عشق نہیں ہو سکتا۔جو شخص کہتا ہے کہ بغیر مت پورہ کے اُسے بہت کامل حاصل ہو گئی ہے وہ جھوٹا ہے مشاہدہ ہی ہے جو انسان کو عشق کے رنگ میں رنگین کرتا ہے۔اور اگر کسی کو یہ بات حاصل نہیں تو وہ سمجھ لے کہ فلسفہ انسان کو محبت کے رنگ میں رنگین نہیں کر سکتا فلسفہ فردونی پیدا کرتا ہے۔ہے فصل سوم حترامی یونین کی طرق افغانستان حیدرآباد تک حضرت سیٹو محوفوت صاحب میده بارانی پھیلی ہوئی مخلص احمدی جماعتوں کا ذکر ایک نہایت نص سے سلسلہ کے فلائی بزرگ مخلص اور تھے۔ہار تیک دستمبر کو اُن کی چھوٹی لڑکی۔داشته اصلی صاحبہ) کی تقریب نکاح تھی جس کا اعلامی حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے فرمایا حضور نے خطیہ انکار میں اضافات سے نیر حیدر آباد تک پھیلی ہوئی احمدی جماعتوں کا بڑی شرح وبسط سے ذکر کرتے ہوئے بعض مخلصین کی خاص طور پر تعریف کی۔چنانچہ فرمایا : اللہ تعالیٰ کی شفقت کے تحت جو قدیم سے اوروں کے متعلق چلی آتی ہے اس نے ہماری جماعت کو بھی مختلف علاقوں میں پھیلا یا ہوا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی قدیم سنت ہے کہ اہلی جماعتیں بطور بیچ کے پھینکی جاتی ہیں جس طرح ہم اگر ایک فٹ سے زمین پر دانے پھینکیں تو وہ تھوڑی سی جگہ میں پھیلیں گے لیکن اگر ایک بلند مینار پر سے پھینکیں تو دور دور گریں گے اور کسی بلند پہاڑ پر سے پھینکیں تو اور بھی معد زمین پر پھیلیں گے۔اسی طرح ہو کہ اللہ تعالی کی طرف سے ایمان آسمان سے پھینکا جاتا ہے وہ ساری دنیا پر پھیل جاتا ہے۔۔اسی چھینٹے میں مختلف علاقوں میں مختلف مدارج کے لوگ پیدا ہوئے ہیں۔افغانستان میں سید عبد اللطیف صاحب نعمت اللہ صاحب اور اور کئی شہداء پیدا ہوئے۔پھر کئی اُن میں سے قادیان آگئے۔اور ان کے ذریعہ تمام علاقہ میں تبلیغ ہوگئی ورنہ کہاں مند دستمان اور کہاں افغانستان ہمارے لئے تو سرداروں پر تبلیغ کرنامشکل تھا مگر یہ اللہ تعالی کی مشکیت تھی کہ وہ ان لوگوں کو سرحدوں سے پارلے گیا تا کہ ان تمام علاقہ میں تبلیغ ہو سکے۔صفحه