تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 250
یشن بنائی گہرا تعلق رکھنے والے لوگوں میں سے منشی ظفر احد صاحب آخری صحابی تھے گھر ابھی بعض آور پرانے لوگ موجود ہیں گو اتنے پرانے نہیں جیتنے منشی ظفر احمد صاحب تھے۔چنانچہ کوٹلہ میں میر عنایت علی صاحب ابھی زندہ ہیں جنہوں نے ساتویں نمبر پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تھی مگر پھر بھی یہ جماعت کم ہوتی جا رہی ہے اور وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں آپ سے گہرا تعلق اور بے تکلفی رکھتے تھے اُن میں سے غائبا منشی ظفر احمد صاحب آخری آدمی تھے۔کپور تھلہ کی جماعت کو ایک یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس جماعت کو یہ لکھ کر بھیجا تھا کہ مجھے یقین ہے جس طرح خدا نے اس دنیا میں ہمیں اکٹھا رکھا ہے۔اسی طرح اگلے جہان میں بھی کچھ تھلہ کی جماعت کو میرے ساتھ رکھیے گا۔مگر اس سے کپورتھلہ کی جماعت کا ہر فرد مراد نہیں بلکہ صرف وہی لوگ مراد ہیں جنہوں نے اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کا ساتھ دیا۔مجھے منشی روڑے خان صاحب تھے یا منشی محمد خان صاحب تھے یا منشی ظفر احمد صاحب تھے۔یہ بزرگ حضرت مسیح موعود علی الصلوۃ والسلام کے ہزاروں نشانوں کا چلتا پھرتا ریکارڈ تھے۔نامعلوم وگوں نے کس حد تک ان ریکارڈوں کو محفوظ کیا مگر بہر حال خدا تعالیٰ کے ہزاروں نشانات کے وہ چشم دید گواہ تھے۔ان ہزاروں نشانات کے جو حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے ہاتھ اور آپ کی زبان اور آپ کے کان اور آپ کے پاؤں وغیرہ کے ذریعے ظاہر ہوئے۔تم صرف وہ نشانات پڑھتے ہو جو الہامات پورے ہو کر نشان قرار پائے مگر ان نشانوں سے ہزاروں گئے زیادہ وہ نشانات ہوتے ہیں جو خدا تعالے اپنے بندوں کی زبان ناک کان ہاتھ اور پاؤں پر جاری کرتا ہے اور ساتھ رہنے والے سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ خدا کے نشانات ظاہر ہو رہے ہیں وہ انہیں اتفاق قرار نہیں دیتے کیونکہ وہ نشانات ایسے حالات میں ظاہر ہوتے ہیں جو بالکل مخالف ہوتے ہیں اور جن میں ان باتوں کا پورا ہونا بہت بڑا نشان ہوتا ہے۔پس ایک ایک صحابی جو فوت ہوتا ہے وہ ہمارے ریکارڈ کا ایک بھر ہوتا ہے جسے ہم زمین میں دفن کر دیتے ہیں۔اگر ہم نے ان رجسٹروں کی نقلیں کرتی ہیں تو یہ ہمارے لئے خوشی کا مقام ہے اور اگر ہم نے ان کی نفی نہیں کیں تو یہ ہماری بدقسمتی کی علامت ہے۔بہرحال ران لوگوں کی قدر کرو۔ان کے نقش قدم پر چلو اور اس بات کو اچھی طرح یاد رکھو کہ فلسفیانہ ایمان انسان کے کسی کام نہیں آتا۔وہی ایمان کام آسکتا ہے جو مشاہدہ پر مبنی ہو اور مشاہدہ کے بغیر