تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 249
آخر ایک نہایت ہی سخت خط وہاں سے آیا۔میں نے وہ خط حضرت صاحب کے سامنے رکھ دیا۔پڑھا اعد فرمایا کھاد ہمارا آنا نہیں ہوتا۔میں نے دہی فقرہ لکھ دیا۔اسپر ایک تہمینہ اور گزر گیا۔تو ایک دن فرمایا کتنے دن ہو گئے۔پھر آپ ہیں گھنے لگے اور فرمایا اچھا آپ چلے جائیں میں چلا گیا اورکپور تھلی پہنچ کر لالہ ہر روان اس مجسٹریٹ کے مکان پر گیا تاکہ معلوم کروں کیا فیصلہ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا۔منشی جی ! آپ کو مرزا صاحب نے نہیں آنے دیا ہوگا۔میں نے کہا۔ہاں۔تو فرمایا اُن کا حکم مقدم ہے۔" میان عطاء اللہ صاحب کی روایت میں اسقدر زیادہ ہے کہ منشی صاحب مرحوم نے فرمایا۔کچھ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ لکھ دو ہم نہیں آسکتے۔میں نے وہی الفاظ لکھ کر مجسٹریٹ کو بھیجوا دیئے۔یہ ایک گروہ تھا جس نے عشق کا ایک کھلے اعلی درجہ کا نمونہ دکھایا کہ ہماری آنکھیں اب پچھلی جماعتوں کے آگے نیچی نہیں ہوسکتیں۔منہ حضرت امیر المومنین نے اپنے خطبہ کے آخر میں احباب جماعت کو جماعت احمدیہ کونصیحت نصیحت فرمائی کہ : یہ وہ لوگ ہیں جن کے نقش قادم پیر جماعت کے دوستوں کو چلنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔کہنے والے کہیں گے کہ یہ شرک کی تعلیم دی جاتی ہے۔یہ جنون کی تعلیم دی جاتی ہے۔یہ پاگل پن کی تعلیم دی جاتی ہے گر حقیقت یہ ہے کہ پاگل رہی ہیں جنہوں نے اس رستہ گو نہیں پایا اور اس شخص سے زیادہ عقلمند کوئی نہیں جس نے عشق کے ذریعہ خدا اور اس کے رسول کو پا لیا اور میں نے محبت میں محمد ہو کر اپنے آپ کو اُن کے ساتھ وابستہ کر لیا۔آپ اُسے خدا سے اور خدا کو اس سے کوئی چیز جدا نہیں کر سکتی کیونکہ عشق کی گرمی ان دونوں کو آپس میں اس طرح ملا دیتی ہے جس طرح ویلڈنگ کیا جاتا ہے اور نور چیزوں کو جوڑ گر آپس میں بالکل پیوست کر دیا جاتا ہے مگر وہ جسے محض فلسفیانہ ایمان عامل ہوتا ہے اس کا خدا سے ایسا ہی جوڑ ہوتا ہے جیسے قلعی کا ٹانکہ ہوتا ہے ذرا گر میں لگے تو ٹوٹ جاتا ہے۔مگر جب ویلڈنگ ہو جاتا ہے تو ایسا ہی ہو جاتا ہے جیسے کسی چیز کا جزو ہو۔پس اپنے اندر عشق پیدا کرو اور وہ راہ اختیار کرو جو ران لوگوں نے اختیار کی پیشتر اس کئے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے جو صحابی باقی ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں له الفضل ۲۸ فرور هر صفحه ۳ تا ۲ *