تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 246 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 246

۲۳۷ ہونگی کیا کیا تکلیفیں تھیں جو اس نے خوشی سے جھیلی ہونگی محض اس لئے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں اشرفیاں پیش کر سکتے۔گر جب اُس کی خواہش پورا کرنے کا وقت آتا ہے تو اللہ تعلی کی حکمت اُس کو اس رنگ میں خوشی حاصل کرنے سے محروم کر دیتی ہے جس نگ میں وہ اُسے دیکھنا چاہتا تھا۔میں کئی دفعہ سنایا ہے کہ منشی روڑے خان صاحب مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ بعض غیر احمدی دوستوں نے کہا کہ تم ہمیشہ ہیں تبلیغ کرتے رہتے ہو فلاں جگہ مولوی ثناء اللہ صاحب آئے ہوئے ہیں تم بھی چلو اور انکی بانوں کا جواب دو مینشی روڑے خان صاحب مرحوم کچھ زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے دوران ملازمت میں ہی انہیں پڑھنے لکھنے کی جوش ہوئی ہی انہیں حاصل تھی۔وہ کہنے لگے جب ان دوستوں نے اصرار کیا نی نے کہا اچھا چلو۔چنانچہ وہ انہیں بلکہ میں نے گئے۔مولوی ثناء اللہ صا دینی احمدیت کے خلاف تقریر کی اور اپنی طرف سے خوب دلائل دیئے جب تقریر کر کے دو بیٹھ گئے تو منشی رٹے خان صاحبت ہے۔اُن کے دوست کہنے لگے کہ بتائیں ان دلائل کا کیا جواب ہے ، منشی روڑے خان صاحب فرماتے تھے میں مین سے کہا۔یہ مولوی ہیں میں ان پڑھ آدمی ہوں ان کی دلیلوں کا جواب تو کوئی مولوی ہی دے گا۔میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ میں نے مرزا صاحب کی شکل دیکھی ہے وہ جھوٹے نہیں ہو سکتے۔اسی طرح ایک دفعہ کسی دوست نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ایک واقعہ سنایا جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی پہنے اور پلیس میں بیٹھے ہوئے دوسرے لوگ بھی بہت محفوظ ہوئے بنٹی روڑے خان صاحب شروع میں قادریان بہت زیادہ آیا کرتے تھے۔بعدمیں چونکہ اہم کام ان کے سپرد ہو گئے اسلئے جلدی چھٹی منا اُن کے لئے مشکل ہو گیا تھا مگر پھر بھی وہ قادیان اکثر آتے رہتے تھے ہمیں یاد ہے۔جب ہم چھوٹے بچے ہوا کرتے تھے توان کا آٹا ایسا ہی ہوا کرتا تھا جیسے کوئی مدتوں کا بچھڑا ہوا بھائی سالہا سال کے بعد اپنے کسی عزیز سے آکر ملے۔کپور تھر کی جماعت میں سے منشی سے خان صاحب منشی ظفر احمد صاحب اور نشی محمد خان صاحب جب بھی آتے تھے تو ان کے آنے سے ہمیں بڑی خوشی ہوا کرتی تھی۔غرض اس دوست نے بتایا کہ منشی روڑے خان صاحب تو ایسے آدمی ہیں کہ یہ مجسٹریٹ کو بھی ڈرا دیتے ہیں۔پھر اُس نے سُنایا کہ ایک دفعہ انہوں نے مجسٹریٹ سے کہا میں قادیان جانا چاہتا ہوں مجھے چھٹی دے دیں۔اُس نے انکار کر دیا۔اسوقت وہ سیشن جج کے دفتر میں لگے ہوئے تھے انہوں نے کہا۔قادیان میں میں نے ضرور جاتا ہے مجھے آپ چھٹی دے دیں۔وہ کہنے لگا کام بہت ہے اس وقت