تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 245 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 245

ذرا مہر آیا تو میں نے اُن سے پوچھا کہ آپ روٹے کیوں ہیں۔وہ کہنے لگے۔میں غریب آدمی تھا۔مگر جوب بھی مجھے چھٹی ملتی قاریان آنے کے لئے چل پڑتا تھا۔سفر کا بہت سا حصہ میں پیدل ہی طے کرتا تھا تا کہ سلسلہ کی خدمت کے لئے کچھ پیسے بیچے جائیں مگر پھر بھی روپیہ ڈیڑھ روپیہ خرچ ہو جاتا۔یہاں اگر جب میں امراء کو دیکھتا کہ وہ سلسلہ کی خدمت کے لئے بڑا روپیہ خرچ کر رہے ہیں تو میرے دل میں خیال آتا کہ کاش میرے پاس بھی روپیہ ہو اور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خارمت میں پاندی کا تحفہ لانے کے بجائے سونے کا تحفہ پیش کروں۔آخر میری تنخواہ کچھ زیادہ ہوگئی (اُس وقت اُن کی تنخواہ شاید بیس پچیس روپیہ تک پہنچ گئی تھی اور میں نے ہر مہینے کچھ رقم جمع کرنی شروع کر دی اور میں نے اپنے دل میں یہ نیت کی کہ جب یہ رقم اس مقدار تک پہنچ جائے گی جوئیں چاہتا ہوں تو میں اسے پونڈوں کی صورت میں تبدیل کر کے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی خدمت میں پیش کو زنگا۔پھر کہنے لگے کہ میرے پاس ایک پونڈ کے برابر رقم جمع ہوگئی۔پھر وہ رقم دے کر میں نے ایک پونڈے لیا۔پھر دوسرے پونڈ کے لئے رقم جمع کرنی شروع کر دی۔اور جب کچھ عرصہ کے بعد اس کے لئے رقم جمع ہو گئی تو دوسرا لونڈے لیا۔اس طرح میں آہستہ آہستہ کچھ رقم جمع کر کے انہیں پونڈوں کی صورت میں تبدیل کرتا رہا اور میرا فشا یہ تھا کہ میں یہ پونڈ حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی خدمت میں بطور تحفہ پیش کرونگا۔مگر جب میرے دل کی آمدو پوری ہوگئی اور پونڈیرے پاس جمع ہو گئے تو یہاں تک وہ پہنچے تھے کہ پھر ان پر رقت کی حالت طاری ہو گئی اور آخر روتے روتے انہوں نے اس نفرہ کو اس طرح پورا کیا کہ جب پونڈ میرے پاس جمع ہو گئے تو تقصر مسیح موجود علیہ اسلام کی وفات ہوگئی۔یہ اخلاص کا کیسا اندار نمونہ ہے کہ ایک شخص چندے بھی دیتا ہے قربانیا بھی کرتا ہے۔مہینہ میں ایک دفعہ نہیں دو دفعہ نہیں بلکہ تین تین دفعہ جمعہ پڑھنے کے لئے قادیان پہنچ جاتا ہے بسلسلہ کے اخبار اور کتابیں بھی خریدتا ہے۔ایک معمولی سی تنخواہ ہوتے ہوئے جب کہ آج اس تنخواہ سے بہت زیادہ تنخواہیں وصول کرنے والے اس قربانی کا دسواں بلکہ عبیسواں حصہ بھی قربانی نہیں کرتے اُس کے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ امیر لوگ جب حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی خدمت میں سونا پیش کرتے ہیں تو میں اُن سے پیچھے کیوں رہوں۔چنانچہ وہ ایک نہایت ہی قلیل تنخواہ میں سے اہوار کچھ رقم جمع کرتا اور ایک عرصہ دراز تک جمع کرتا رہتا ہے، نامعلوم اس دوران میں اُس نے اپنے گھرمیں کیا کیا تنگیاں برداشت کی