تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 244
۲۳۵ دنیا کے لئے ایک تحریے اور حفاظت کا ذریعہ ہیں یہ لوگ جو خدا تعالے کے انبیاء کا قرب رکھتے ہیں، خدا تعالیٰ کے نبیوں اور اس کے قائم کردہ خلفاء کے بعد دوسرے درجہ پر دنیا کیئے ان ادور سکون کا باعث ہوتے ہیں۔یہ ضروری نہیں کہ ایسے لوگ بڑے لیکچرار ہوں ، یہ ضروری نہیں کہ ایسے لوگ خطیب ہوں ، یہ ضروری نہیں کہ ایسے لوگ پھر پھر کر لوگوںکو تبلیغ کرنے والے ہوا، اُن کا وجود ہی لوگوں کے نے برکتوں اور منتوں کا موجب ہوتا ہے اور جب کبھی خدا تعالی کی طرف سے بندروں کی نافرمانی کی وجہ سے کوئی عذاب نازل ہونے لگتا ہے تو اللہ تعا لے اس عذاب کو روک دیتا ہے اور کہتا ہے ابھی اس قوم پر مت نازل ہو کیونکہ اس میں ہمارا ایسا بندہ موجود ہے جسے اس عذاب کی وجہ سے تکلیہ ہوگی پس اُس کی خاطر دنیا میں امن اور سکون ہوتا ہے۔تگریہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لائے یہ تو اس عام درجہ سے بھی بلا تھے۔ان کو خدا نے آخری زمانہ کے مامور اور مرسل کا صحابی اور پھر ابتدائی صحابی بننے کی توفیق عطافرمائی۔اوران کی والہانہ محبت کے نظارے ایسے ہیں کہ دنیا ایسے نظارے صدیوں میں بھی دکھانے سے قاصر رہے گی۔۔مجھے وہ نظارہ نہیں بھولتا اور نہیں مجھول سکتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات پر ابھی چند ماہ ہی گذرے تھے کہ ایک دن باہر سے مجھے کسی نے آواز دے کر گوایا اور خادمہ یا کسی بچہ نے بتایا کہ دروازہ پر ایک آدمی کھڑا ہے اور وہ آپ کو بلا رہا ہے یں باہر نکلی تو منشی روڑے خان صاحب مرحوم کھڑے تھے۔وہ بڑے تپاک سے آگے بڑھے مجھ سے مصافحہ کیا اور اس کے بعد انہوں نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا۔جہاں تک مجھے یاد ہے انہوں نے اپنی جیب سے دو یا تین پاؤنڈ نکالے اور مجھے کہا کہ یہ اماں جان کو دے دیں اور یہ کہتے ہیں اُن پر ایسی رقت طاری ہوئی کہ وہ پہنچیں مار کر رونے لگ گئے اور اُن کے رونے کی حالت اس قسم کی تھی کہ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے بکرے کو ذبح کیا جا رہا ہے۔میں کچھ حیران سارہ گیا کہ یہ رو کیوں رہے ہیں۔مگر میں خاموش گھڑا رہا۔انتظار کرتا رہا کہ وہ خاموش ہوں تو ان سے رونے کی وجہ دریافت کروں۔اس طرح وہ کئی منٹ تک روتے رہے۔منشی روڑے خان صاحب مرحوم نے بہت ہی معمولی ملازمت سے ترقی کی تھی۔پہلے کچہری میں وہ چپڑاسی کا کام کرتے تھے اپھر اہل مد کا عہدہ آپ کو مل گیا۔اسکے بعد نقشہ نہیں ہو گئے۔پھر اور ترقی کی تو سر رشتہ دار ہو گئے۔اس کے بعد ترقی پاکر نائب تحصیلدار ہو گئے اور پھر تحصیلدار بین کر ریٹائر ہوئے۔ابتداء میں اُن کی تنخواہ دس پندرہ روپے سے زیادہ نہیں ہوتی تھی۔جب اُن کو