تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 242
۲۳۳ جناب شیخ محمد احمد صاحب مظہر یہ روایت درج کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں کہ : بر اگست ۹۴لہ کو عاجز نے مندرجہ بالا روایات لکھیں اور اس روایت کے بعد کہ " حضور میں یہ ایک خاص بات میں نے دیکھی ماضی کیا کہ کچھ اور کھو ئیں۔والد صاحب نے نہایت دردمندانہ الفاظ میں آبدیدہ ہو کر فرمایا یہ محمد احمدہ نہیں، خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسی خاص الخاص خدمات کا موقع ملا ہے کہ ہم تو وہ باتیں اب بیان بیٹی نہیں کر سکتے۔روایات کے متعلق آپ کے یہ آخری الفاظ تھے جو بعد میں مضمون کو ختم کرنے والے ثابت ہوئے۔کیونکہ اس کے بعد روایات لکھنے کا عاجز کو موقع نہیں ملا - ۱۳ اگست ۹۷ پر کو آپ بیمار ہوگئے۔19 را گست ۱۹ کو بہت کمزور ہو چکے تھے۔کو صبح یہ بچے آپ اپنے مصور حقیقی سے جاملے۔انا للہ وانا اليه راجعون۔حضرت منشی ساحیب کی بیان فرمودہ یہ سب روایات پہلی بار رادیو آت ریجنز اردو مے اور میں چھپیں۔۱۲۰۰ اگست ۱۳۷ جنور می ۱۶۱۹۴۲ بعد ازان مالک صلاح الدین صاحب ایم۔اے نے انکو اصحاب احمد کی چوتھی بعد میں بھی شائع کر دیا۔حضرت منشی ظفر احد صاحب کپور تھلوی کی رجعت تر امیرالمومنین کی زبان مبارک تقر منشی ظفر احمدت پر تل کے دو سر عشاق اہمیت کا مفصل تذکرہ جماعت احمدیہ کے لئے ایک بہت بڑا قومی المیہ تھا۔یہی وجہ ہے کہ حضرت امیر المومین و لیفیت ایسے الاکی نے ہر ماہ ظہور من اللہ اور اگست (۵) کو ایک مفصل خطبہ ارشاد فرمایا جس کے شروع میں ان کے جنازہ کی نسبت فرمایا کہ : ان ہفتہ جماعت کو ایک نہایت ہی دردی پہنچانے والا اور تکلیف میں مبتلا کرنے والا واقع پیش آیا ہے یعنی منشی ظفر احمد صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ابتدائی صحابہ میں سے ایک تھے وہ اس ہفتہ میں فوت ہو گئے ہیں۔مجھے افسوس ہے کہ میں اس وقت ڈلہوزی میں تھا جب انکی نخش یہاں لائی گئی اور میں اس جنازہ میں جو ان کی لاش پر پڑھا گیا شامل نہیں ہو سکا۔مجھے ایسے وقت میں اطلاع ہوئی جبکہ میں کل صبح ہی آسکتا تھا۔پہلے تو میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ تار نوں کہ جنازہ کو اس وقت تک روک لیا جائے جب تک میں نہ پہنچ جاؤں لیکن گرمی کی وجہ سے اور اس خیال سے گہ نہیں اس عرصہ تک روکنے سے نعش کو نقصان نہ پہنچنے میں نے تار دینا مناسب نہ سمجھا اور اس بات کو مقامی لوگوں پر چھوڑ دیا کہ اگر فش رہ سکتی ہے تو وہ میرا انتظار کریں گے کیو نکہ انہیں علم ہے کہ