تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 227
۴۲۰ کریں گے۔ہر فریق بو بد زبانی کرے یا تالی بجائے شکست خوردہ سمجھا جائے گا۔(4) ہر فریق کے تین تین آدمی حفظ امن کے ذمہ وار ہوں گے جماعت احمدیہ کی طرف سے سید حیدر شاہ صاحب ، خان محمد صاحب اور روشن خان صاحب قرار پائے ، فریق مخالف کی طرف سے راجہ مہدی خاں صاحب، مولوی اللہ دتہ صاحب اور راجہ حاکم خان (6) مباحثہ دائرہ راجہ احمد خاں میں ہوگا (۸) حضرت مرزا صاحب کا صرف قول ہی پیش کیا صاحب جائے گا تشریح نہیں کرنی ہوگی۔حسب قرارداد ۲۹ اکتوبر کو ٹھیک ساڑھے آٹھ بجے مناظرہ شروع ہوا۔سامعین کی تعداد خاصی تھی اور اُن میں ہندو اور سکھ بھی شامل تھے۔پہلے مباحثہ میں جو حیات عمات مسیح پر تھا مدعی لال حسین اختر اور مجیب مولانا محمد یار صاحب عارف تھے مباحثہ نہایت خوش اسلوبی سے ہوا۔اگر چہ لال حسین صاحب نے لوگوں کو مشتعل کرنے کی کوشش کی مگر عادت صاحب کی تقریر کچھ ایسی موثر ہوئی تھی کہ لوگ لال حسین صاحب کے دھوکے میں نہ آئے۔میدان مناظرہ میں بالکل سکوت چھایا ہوا تھا مخالفین بھی آپ کی تقریر کے وقت ہمہ تن گوش ہو کر سُن رہے تھے۔دوسرا مباحثہ اسی تاریخ کو زیر صدارت عارف صاحب شیخ عبد القادر صاحب فاضل تو مسلم نے کیا۔آپ نے بھی اپنے وقت میں اچھے دلائل دیئے اور ختم نبوت کے مسئلہ کو بہت عمدگی سے واضح کیا۔تمیرا مباحثہ ۳۰ اکتوبر کی صبح کو 9 بجے شروع ہوا۔اور ایک بجے ختم ہوا۔اس مباحثہ میں جو صداقت حضرت مسیح موعود پر تھا ملک عبد الرحمن صاحب خادم بی اے۔ایل ایل بی بلیڈ ر گجرات کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اور مناظر چودھری محمد یار صاحب عارف تھے۔اس مباحثہ میں نقص امن کا زیادہ خطرہ تھا مگر قابل صدر کی کوشش سے اور قابل مقرر کی عالمانہ تقریر سے جو در حقیقت خدا کے فضل کے اسباب تھے کوئی ناگوار واقع پیش نہ آیا۔اگر چہ مخالف احمدیت نے بڑی کوشش کی کہ لوگوں کو مشتعل کرے غلط باتیں پیش کر کے معاصرین کو اکسایا مگر وہ اپنے بعد ارادہ میں کا میا نے ہوا۔له پیرول صوبہ بہار ( انڈیا ) کی ایک بستی ہے جہاں پر پیش کے آخر میں ابوالبشارت مباحثه پیرول دبهد مولوی عبدالغفور صاحب فاضل نے ایک غیر احمدی عالم سے ایک گھنٹہ تک مناظرہ کیا۔جب غیر احمدیوں نے دیکھا کہ ان کے مولوی صاحب احمدیت کے معقول دلائل تسلیم کر چکے ہیں اور بعض سے ساکت آگئے ہیں تو انہوں نے شور مچانا شروع کر دیا اور سال گفتگو ختم ہو گیا ہے مباحثہ لاہور سجد احمدیہ (بیرون دہلی دروازہ) لاہور میں ۲۷ امضاء) اکتوبر پر ہیش کو مسلہ نبوت پر اور کار +190 نبوت اور پیش کو مسئلہ کفر و اسلام پر غیر مبائع اصحاب سے نہایت کامیاب مناظرے ہوئے۔له الفضل " و نبوت / تو مبرا مش صفحه 4 الفضل " ۲۳ نیوت اتو میر به بیش صفحه هر کالم ۰۳۰۲