تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 220 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 220

۲۱۳ کوشش تھی جس میں ٹھوس واقعات کی روشنی میں پانچ زبر دست دلائل سے اس الزام کو بے بنیاد اور فرضی ثابت کیا گیا کہ حضرت عالمگیر رحمہ اللہ علیہ کے عہد میں اس کی پالیسی کے ماتختہ گورو گوبند صاحب کے دولڑ کے مسلمانوں کے ہاتھوں جنکور میں قتل ہو گئے اور دو اور چھوٹے بچوں کو محض اسلام قبول نہ کرنے کی پاداش میں قلعہ سر ہند کی دیواروں میں زندہ چنوا دیا گیا۔گیانی صاحب نے اس رسالہ میں یہ بھی بتایا کہ مسلمانوں نے گورو گوبند سنگھ صاحب اور ان کے بچوں پر کبھی علم نہیں کیا بلکہ ہمیشہ نرمی و ملاطفت سے پیش آتے رہے، تبھی تو گور و صاحب ہمیشہ حضرت عالمگیر رحمتہ اللہ علیہ کے مدح سرا ر ہے جیسا کہ ظفر نامہ میں لکھا ہے۔اس رسالہ کا دیباچہ ملک کے بلند پایہ ادیب مولانا عبد المجید خان صاحب سالک ایڈیٹر روزنامہ انقلاب نے لکھا۔احمدیت کی نحقی کتاب مؤلفه ماریا همه تصفیه شد علاقه امكاني) مولوی محمد علی صاحب یک جنگ موعود نبی سے منہ ماستہ محمد شفیع صائب آلم مابق یہ مچا ہی امونه مولوی محمد علی اور اس کی تفسیر بیان القرآن خلاف مذهب آخر الزمان مولفه قاضی محمد یوسف صاحب فاروقی امیر جماعتہائے احمدید سه بعد) یہ رسالہ میاں حیات محمد صاحب احمدی بھیروی سب ڈویژنل آفیسر پشاور کی تحریک اور ان کے خلف الرشید میاں محمد انور صاحب کی خاص دلچسپی سے لکھا گیا۔چشمه عرفان (مرتبه مبارک احمد خان صاحب امین آبادی سابق مدیر جریدہ عبرت کلکتہ) یہ کتاب چودھری محمد مالک خان صاحب تسنیم بی۔اسے متعلم لا کالج میں ایمن آباد کی یادگار کے طور پر شائع کی گئی جو مبارک اخوان ما کی تاریک تبلیغ سے ہر سال میں حلقہ بگوش احمد ہی ہوئے اور اپنے اخلاص، سعادت مندی اور دینی ذوق میں جلد جلد ترقی کرنے لگے مگر افسوس زندگی نے وفانہ کی اور تقریباً ایک ماہ تک مو قد میں مبتلارہ کر دار جولائی شاہ کو ۲۳ برس کی عمر میں اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔پشمیہ عرفان دینی اور روحانی نکات و مضامین کا ایک مختصر مگر نہایت مفید مجموعہ ہے۔- گلدسته دینیات" (احمدی لڑکوں کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضور کے خلفاء لے آپ کی وفات پر چین بزرگان سلسلہ نے تعزیت نامے لکھے۔ان میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب مبلغ انگلستان و مریکہ ، حضرت مولوی محمد دین صاحب ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول ، ملک خدا بخش صاحب جنرل سکرٹری جماعت احمدیہ لاہور، ملک عبد الرحمن صاحب خادم پیراکبر علی صاحب ایم بی ای ، ایم ایل اے ایڈوکیٹ فیروز پور اور میر محمد بخش صاحب پلیڈ ر امیر جماعت احمید گوجرانوالہ کے اہم و قابل ذکر میں مرحوم کا جنازہ بھی صار نے پڑھایا تھا ؟