تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 213
۲۰۶ سب سے قبل حضرت مسیح موعود کے قدیم صحابی حضرت خلیفہ نورالدین صاحب جمونی نے دعا کرائی۔ازاں بعد مولانا ابو العطاء صاحب نے اللہ تعالیٰ کے اس گھر کا پہلا بنیادی پتھر رکھا۔پھر سب احباب نے مل کو ڈھا کی سالہ مسجد کا ایک کرہ اگلے سال نہ ہی میں تیار ہوا تو اس میں پہلا خطبہ جمعہ حضرت قاضی محمد یوسف صاحب امیر جماعت احمدیہ صوبہ سرحد نے پڑھایا اور ۷۰ افراد کے قریب احمدی احباب نے نمازادا کی لیے چندہ مسجد کی فراہمی کے سلسلہ میں چودھری عبد الواحد صاحب نے سندھ حیدرآباد دکن ، بہار، بنگال، انڈیہ، یوپی اور دہی کی جماعتوں کا دورہ کیا اور احتباب جماعت نے عموماً اور جماعت ٹاٹانگر جمشید پور موسی بنتی نے خصوصاً نہایت اخلاص سے تعاون کیا۔ان دنوں چودھری عبداللہ خان صاحب ٹاٹا نگر کی جماعت احمدیہ کے امیر تھے۔مکے سناتن دھرم سیالاہور کی مذہبی کا فرش اور نبوت اور پیش روستای دهم سمبا ہو نے ایک مذہبی کا نفرنس منعقد کی مضمون ” ایشور پاستا یعنی میں احمدی مبلغ کی کامیاب تقریر عبادت انہی تھا۔دوسرے مختلف مذاہب کے نمائندوں کے علاوہ ملک عبدالرحمن صاحب قادم بی۔اے۔ایل ایل بی نے بھی تقریر فرمائی اور دس منٹ کے مختصر سے وقت میں نہایت پر فصاحت اور پُر جوش طریق سے اس موضوع پر اسلام اور احمدیت کے نقطہ نگاہ سے روشنی ڈالی اور بتایا کہ خدا تعالے کی کامل اطاعت اس کے نقش کو قبول کرنا اور اُس کے صفات کو اپنے اندر پیدا کرنا اصلی عبادت ہے۔آپ نے یہ بھی واضح کیا کہ اسلام نے عبادت الہی کا ایک بہترین طریق نماز کا قائم کیا ہے۔جس کی ابتداء الله اکبر سے ہوتی ہے اور انتہا سلامتی کی کیفیت پر۔اسلامی نماز میں صفوں کا قیام دنیا میں مساوات کا بہترین طریق ہے۔یہ وہ طریق ہے جس سے ایمان کا شجر ہمیشہ سرسبز اور با ثمر رہتا ہے جس کا زندہ ثبوت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وجود مبارک ہے ہے ه " الفضل " ۲۹ الفاء / اکتوبر ر ش صفحه ۲ کالم ۱ له الفضل" ۶ و ۱۶ رتبوك /ستمبرم صفحه ۲ ایش صفحه ۲ کالم ۰۲ " الفضل " تبليغ / فروری س ش صفحه ۲ کالم 2۔4 کالم سید عبداله الدین صار نے خصوصاً بہت معاونت فرمائی کا انتخابات تلاوت ه بیش صفحه ۲ کال ۳ - ۴ که " الفضل " لم ار شہادت / اپریل یا الفضل / فتح دسمبر مش صفحه ۰۴