تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 212 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 212

۲۰۵ کئے گئے۔لیکن پھر جب دیکھا گیا کہ تالاب کے کنارے کچھے ہونے کی وجہ سے مٹی نہانے والوں کے پاؤں کے ساتھ لگ کر تالاب میں جاتی ہے اور ارد گرد روک نہ ہونے کی وجہ سے بعض بیمار بھی نہاتے ہیں جن کی بیماری سے دوسروں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو سکتا ہے تو کوشش کی گئی کہ تالاب کے ارد گرد بھی پختہ فرش بنا دیا بھائے اور تالاب کے گرد چار دیواری ہو۔نیز دوسری ضروریا کے لئے بھی انتظام کیا جائے۔ان حالات میں موجودہ صورت میں اُسے تعمیر کیا گیا ہے تاکہ بچے تیرنے کی مفید ورزش کر سکیں اور حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالے تیرا کی کی ورزش کے متعلق جو ارشاد کنی یاد فرما چکے ہیں اس پر عمل کیا جائے۔اس تعمیر اور بیچنگ کے انتظام پر چھ ہزار سے کچھ اوپر رقم خرچ ہو چکی ہے جس میں ، ۹۵ روپے صدر انجمن نے دیئے ہیں۔کچھ چندہ جمع ہوا۔اور باقی قرض ہے۔امید ہے کہ تعلیم الاسلام سکول کے اولڈ بوائز اس قرض کی ادائیگی کی طرف توجہ کریں گے۔اس موقعہ پر دعا کی بجائے کہ یہ کام با برکت ہو بچوں کی صحت ، ایمان اور سلسلہ کے مفاد کے لئے جو بچے اس میں تیرنا سیکھیں انہیں جسمانی طور پر ہی فائدہ نہ ہو بلکہ وہ دین کی خدمت کرنے کے قابل بھی بن سکیں اور کسی ڈوبتے ہوئے کو بچا سکیں" سے حضرت صاحبزادہ صاحب کے خطاب کے بعد بالترتیب حضرت ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے، حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب درد ایم۔اے حضرت چودھری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے اور حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے تقریریں کیں اور بالآخر حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے دعا کرائی۔ان تقادیر کے بعد تالاب کا عملی افتتاح اس طرح ہوا کہ حضرت مرزا شریف احمد صاحب ، حضرت چودھری فتح محمد صاحب سیال حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ، حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب اور بعض اور بزرگ تالاب میں تیرتے رہے اور ان کے ساتھ سکول کے بہت سے بچوں نے بھی اس کی مشق کی ۲۰ احضار پر پیش کو دس بجے دن مسجد احمدیہ سرینگر کا سنگ بنیاد مسجد سرینگر کی بنیاد لکھا گیا۔اس تقریب پر سر مینگر اور ناسنور کے احباب جماعت موجود تھے۔له الفضل ۱۲ را غار / اکتوبرش صفحه 1 صفحها : صفحه ۱-۲+