تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 210
۲۰۳ 1719 ۶۱۹۴۰ بنگال کے علاوہ برما اور سیام سے بھی آتے تھے میں میں اچاریہ جگدیش چند را پیر جی ہندو اور ده علوم مشہور سکالمہ اس کے انچارج تھے۔اس درسگاہ کے طلبار نے ار وفا جولائی میر پیش کو پھ بجے شام جلسہ کیا جس میں مسٹریدم راج (مشہور ہندو مہا سبھائی لیڈی کی زیر صدارت اچاریہ جگر یش چندر پیٹر جی ، ڈاکٹر کا لید اس ناگ ایم۔اے ڈی لٹ اور بعض دوسرے اصحاب کے علاوہ احمدیہ الیسوسی ایشن کلکتہ کے سیکرٹری مولوی دولت احمد خاں صاحب خادم نے بھی تقریب کی جس میں بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی رہی تعلیم ہے کہ دنیا میں کوئی ایسی قوم نہیں جس میں کوئی نہ کوئی نبی اور رسول نہ گزرا ہو۔اور حضرت بڑھ ، حضرت کرشن ، حضرت زرتشت اور حضرت کنفیوشس تمام اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے مولوی دولت احمد خان صاحب نے اپنی تقریر میں یہ بھی بتایا کہ حضرت بدھ نے جو اپنی آمد ثانی کی خبر دی تھی وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ظہور سے پوری ہو چکی ہے۔نیز آپ نے بدھوں کو احمدیہ لٹریچر کا مطالعہ کرنے کی تحریک کی۔ایک اعلی کلاس کے طالب علم نے یہ تقریر سے نکہ اس رائے کا اظہار کیا کہ اسلام کی یہ تشریح میرے لئے ایک انکشاف جدید ہے کیونکہ میں اسلام کو اس سے قبل ایک محدود اور فرقہ وارانہ مذہب خیال کرتا تھا۔مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری اس سال مولی کرم الہی صاحب نظر مجاہد تحریک جدید کو کا ایک دلچسپ مشورہ دبئی سے سو میل دور رقبہ مہرولی میں ولی کامل حضرت دہلی قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر جانے کا اتفاق ہوا جہاں مسلمانوں کی قبر پرستی کا افسوستاک مظاہرہ بچشم خود دیکھا جس کی تفصیل انہوں نے ” الفضل“ ۲۳ ظهور را گسترش میں شائع کر دی جسے مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے اپنے اخبار اہلحدیث مورخہ 4 ستمبر نشہ میں نقل کر کے حسب ذیل دلچسپ نوٹ لکھا :۔برادران توحید ! کیا یہ آواز سن کر بھی آپ لوگ بزم توحید قائم کرنے میں غفلت سے کام لیں گے کیا ابھی کچھ اور بھی سننا چاہتے ہیں۔میری رائے کو کوئی صاحب غلط نہ ٹھیرائیں تو میں یہ کہنے سے نہیں رک سکتا کہ مسلمان قوم آپس میں تقسیم کار کولے سیاسی مسلمان جن میں مرزائی بھی شامل ہیں۔بیشک غیر مسلموں میں اسلام کی اشاعت کریں اور ان کو کلمہ پڑھا کہ مردم شماری کی ه الفضل ظهور/ اگست به بیش صفحه ۲م کالم ۳ *