تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 204 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 204

196 لیفہ مسیح الثانی نے مختصر سی تقریر فرمائی اور رشتہ کے بابرکت ہونے کے لئے مجمیع سمیت دعا کی سلے اگلے دن شام کو ملک عمر علی صاحب بی۔اے نے اپنی کو بھی واقع دارالا نوار میں وسیع پیمانہ پر دعوت ولیمه دی بسید نا حضرت امیر المومنین نے بھی شرکت فرمائی اور دعا کی یہ اناطولیہ (ترکی میں ہولناک زلزلہ ایشیائے کوچک ( ASIA MINOR ) میں اناطولیہ کے MINOR) میں نام سے ایک جزیرہ نما ہے جو آرمینیا اور کردستان کی سطح اور جماعت احمدیہ مرتفع کے مغرب ، بحیرہ اسود کے جنوب اور شام و لبنان کے شمال میں مشہور مسلمان ملک ترکی کے معدود سلطنت میں واقع ہے۔۲۷-۲۶ دسمبر ۶ہ کی درمیانی رات کو اس خطہ میں ایک ہولناک زلزلہ آیا جس کے شدید جھٹکے صلح جنوری به پیش تک محسوس ہوتے رہے۔ترکی وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق قریباً ۴۵ ہزارہ نفوس زخمی اور تیس ہزار کے قریب لقمہ اجل ہو گئے۔ضلع ارزنجان کی کل آبادی ۶۵ ہزار تھی جس میں سے ۳۰ فیصدی ہلاک اور ۲۰ فیصدی مجروح ہوئے۔۱۶ صوبائی شہر اور ۹۰ دیہات پیوند زمین ہوئے اور ساتھ ہزار مربع میل کا علاقہ زلزلہ کی تباہ کاری سے ہسپتال اور قبرستان کا منظر پیش کرنے لگا۔اس آفت ناگہانی کے علاوہ تریکی کا وسیع علاقہ سیلاب کی زد میں آگیا۔خصوصاً سمرنا ، بروسا اور اڈریا نویل کے اضلاع میں بے شمار انسان اور مویشی بہہ گئے اور جو لوگ زلزلہ سے بچ گئے وہ بے خانماں ہو کہ ادھر ادھر مارے مارے پھرنے لگے اور نا قابل برداشت سردی اور برفباری کرنے لگے۔ترکی کے طول و عرض میں اس زلزلہ سے کہرام مچ گیا اور صف ماتم بچھ گئی اور خصوصاً عالم اسلام کو اس ہولناک اور قیامت خیز زلزلہ سے شدید صدمہ پہنچا۔قادیان میں جب زلزلہ کی یہ ہو شر با خبر پہنچی تو حضر خلیفہ المسیح الثانی رضی کے ارشاد پر سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ناظر امور خارجہ نے صدر جمہوریہ ترکی عصمت انونو کے نام حسب ذیل تار بھیجا :- جماعت احمدیہ اور اس کے امام کو زلزلہ کی مصیبت اور آفت پر سخت صدمہ ہوا۔مہربانی فرما کر عمیق ہمدردی کا پیغام ترک قوم اور بالخصوص مصیبت زدگان تک پہنچا دیں مہمدردی کے اس تار کا حجاب جمہوریہ ترکی کی طرف سے سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب فرانسیسی الفضل فتح دسمبر سن و کالم سے " الفضل در فتح را ویرایش صفحه ۰۹۰۸ " الفضل ، ار جنوری صلح ۳۱ میشه ٢١٩٤٠