تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 202
۱۹۵ ۲۴- حضرت مولوی فخرالدین صاحب آفت گھر گھیاٹ - میانی رضلع شاہ پور (والد ماجد مون تامر یعقوب صاحب فاضل خاہر انچارج شعبہ زود نویسی ) ربیت ولادت قریباً : شاهه وفات ۱۰ر نبوت / نومبر اش بعد ۵۹ سال) پنشن لینے کے بعد قادیان میں ہجرت کر کے آگئے تھے۔تین سال نظارت بیت المال میں ناظر صاحب کے پرسنل اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتے رہے۔کچھ عرصہ نظارت دعوت و تبلیغ میں بھی کام کیا اور چھ ساتیک سیکرٹری امامت فنڈ تحریک جدید کے فرائض انجام دیئے۔علاوہ ازیں حضرت خلیفہ المسیح الثانی اور حضور کے برادران عالی مقام کے مختار عام بھی رہے میلہ ۲۵- میاں مولا بخش صاحب بنگری روفات ۲۱ نبوت / نومبر به پیش است ۲۶۔بابو غلام نبی صاحب ریٹائر ڈ انجینیئر ساکن ہریانہ ضلع ہوشیار پور وفات : ۱۲ فتح / دسمبر بارش ) ۲۷ میاں محمد صاحب مکی متوطن چمکنی ضلع پشاور ۶۱۹۴۰ ربیعت : ۶۱۹۰۱ وفات : ۱۴ فتح / دسمبر ریش بعمر هانه سال ) آپ ایک عالم ، محمدہ شاعر اور با خبر بزرگ تھے۔اگرچہ ، میں اختلاف سلسلہ کے دوران غیر مبالعین کا ساتھ دیا مگر وفات سے قبل دوبارہ خلافت سے وابستہ ہو گئے کہ ۳۸- شیخ عطا محمد صاحب سیالکوٹی د ڈاکٹر سر محمد اقبال کے بڑے بھائی اور شیخ اعجاز احمد صاحب کے والد بزرگوار) " ر وفات : فتح دسمبر به ش) ه " الفضل ۱۲ نبوت / نومبر به الا الله مش صفحه ۲ کالم 1 : ۲۸ " صفحه با کالم د صلح اجنوری سه مش صفر ۲ کالم د لوگو ۱۹۴۰ ہے هار فتح / دسمبر له میش صفحه ۲ کان ۱ و شیخ خلط محمد صاحب نے تین بیٹے اپنی یادگار چھوڑے۔نما ۲۵ (1) شیخ اعجاز احمد صاحب (۳) شیخ امتیاز احمد صاحب (۳) شیخ مختار احمد صاحب