تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 201 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 201

بجالانے لگے حضرت امیر المومنین کی ذاتی لائیبریری کا انتظام ، ڈاک کے ضروری کاغذات اور اخبارات کے تراشوں کی حفاظت حضور کے سفروں کے انتظامات اور بعض دوسرے اہم فرائض آپ کے سپرد ہوتے تھے۔آپ کا شمار حضرت خلیفہ ثانی کے خاص خدام میں ہوتا تھا ہو خلیفہ وقت سے غایت درجہ ادب و احترام کے ساتھ ساتھ نہایت بے تکلفی سے گفتگو کر سکتے تھے اور مجالس کی رونق ہوتے تھے آپ نہایت خوبصورت، وجیہ تشکیل ، با ذوق ، زندہ دل اور غایت درجہ مستعد اور فرض شناس بزرگ تھے۔۲۳- حضرت حافظ عبدالرحمن صاحب بھیروی ( والد ماجد مکرم حافظ مبارک احمد صاحب سابق پروفیسر جامعہ احمدیہ ) د وفات : ۲۳ تبوک استمبر بارش ہے ۲۳ نواب خان صاحب ساکن پیرانہ تحصیل پنڈی گھیپ ضلع کیمبلپور fz Pr Pr P تے روفات : ۲ فتح / دسمه ر له ش له بقول حضرت مفتی محمد صادق صاحب ایک درویش صفت عاشقانہ رنگ کے آبادی تھے سکے حضرت مولوی شیر علی صاحب نے ان کی وفات پر لکھا :۔مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے ایک مخلص صحابی تھے۔سلسلہ اور مرکز سلسلہ قادیان سے از حد محبت اور عقیدت رکھتے تھے۔باوجود اپنی غربت اور افلاس کے اخلاص کے ساتھ سال میں ایک دفعہ اور بعض اوقات دو دفعہ ضرور قادیان آتے تھے۔اپنے دور دراز وطن سے اکثر پیدل ہی قادیان آتے۔اور پیدل ہی اپنے وطن واپس جاتے تھے۔کئی دفعہ اپنے بچوں کو بھی ہمراہ لاتے تا کہ اپنے ساتھ اپنے بچوں کو بھی قادیان کی مقدس بستی اور سلسلہ کے ساتھ اخلاص میں ثابت قدم رکھیں۔مخالفوں میں بھی صداقت کا اظہار کرنے سے کبھی نہ پڑ سکتے تھے۔ان کے لڑکے نے اطلاع دی ہے کہ انہوں نے وفات کے وقت شروع کی حالت میں بھری مجلس میں جو کہ غیر احمدیوں کی تھی فرمایا کہ " تم سب گواہ رہو کہ میں احمدی ہوں " یہ ان کے آخری الفاظ تھے “ کے عراق الفضل ۲۴ تبوک استمبر بار برش صفحه ۲ کالم ۱ * ۱۲ فتح دسمبر با سایر مش صفحه ۲ کالم ۴ + ۲۶ ملح اجنوری سنت سه بیش صفحه ۵ کالم ۰۳ یش ۶ + ار صلح جنوری سنه مش صفحه 4