تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 197 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 197

14- یہ سنسنی خیز خبر ہوا کی طرح شہر میں پھیل گئی اور صبح تک مردوں اور عورتوں کا تانتا لگ گیا۔پولیس آگئی اور تفتیش شروع ہوئی۔لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لئے سول ہسپتال بھیجا گیا اور واپسی پھر جماعت احمدیہ نے ان لاشوں کا مطالبہ کیا۔مگر ان کے نام نہاد رشتہ داروں نے کہا۔کہ یا تو فاحی صاحب اور ان کی بیوی کی لاش کو فوراً قادیان لے جاؤ۔ورنہ ہم ان کو بکس میں بطور امانت ودفن نہیں کرنے دیں گے۔مقامی پولیس نے بھی جماعت احمدیہ کی مدد نہ کی بچنا نچہ مرحوم و مرحومہ کی لاشوں کو بلا کس کے ہی سپرد خاک کر دیا " ہے -۱۶ میاں سندھی شاہ صاحب ساکن بینگه ( تحصیل نوانشهر د و آبه مضلع جالندهر) -16 -IA روفات : ۱۹ر ظهور / اگست به بش بعمر ۷۵ سال کے 1900 حکیم غلام محمد صاحب قبولہ ضلع منتشگری که چودھری فضل الدین صاحب بیٹواری سیکھواں ضلع گورداسپوری ۱۹- رعایت اللہ صاحب بھونچال کلاں ضلع جہلم شے ۲۰- حضرت میاں اللہ بخش صاحب بنه دار متوطن بزدار تحصیل سنگھڑ ضلع ڈیرہ غازی خاں۔روفات : ۷ تبوک استمبر مش بعمر قریباً ستر سال ) ڈیرہ غازی خان کے علاقہ میں سب سے پہلے تلہ میں حضرت مولوی محمد ابو الحسن صاحب نے قبولِ احمدیت اور صحابیت کا شرف پایا۔حضرت مولوی صاحب کی تبلیغ و تحریک پر جن لوگوں کو شناخت حق کی توفیق ملی۔ان میں پستی بزدار کے حضرت مولوی جند وڈا صاحب اور حضرت میاں اللہ بخش صاحب بھی تھے۔یہ دونوں بزرگ پہلے تحریری بیعت کے چھ ماہ یا زیادہ سے ایک سال بعد حضرت مسیح موعود کی زیارت کے شوق میں بزدار سے پا پیادہ چل دیئے پہلے موضع کالہ (ضلع ڈیرہ غازیخان میں پہنچے جہاں مولوی ہوت خاں صاحب احمدی مدرس تھے۔" الفصل ۲۰ ظهور را گسست همایش صفحه ۶ کالم ۴۰۳ مه ۱۹۴۰ صفحه ۲ کالم 1۔در تبوک معتبر کلیه بیش صفحه ۲ کالم ۵۲ 4 " ۰۱ $ نے ان کی بیعت کا ذکر الحکم ۲۴ اگست ست در صفحه ۱۶ کالم مز میں موجود ہے ،