تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 196
1A9 علاوہ ازیں آپ نے اپریل ۱۹۰۶ء میں اپنے مطبع بدر لاہور سے براہین احمدیہ کے پہلے چار حصے شائع کئے اور حصہ اولیٰ کے شروع میں اپنے قلم سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام کی سوانح عمری بھی لکھی جو اٹھانوے صفحات پرمشتمل تھی۔۲۱ مارچ ۱۹۰۵لہ کو اختبار" "بدر" کے مالک و مدیر حضرت بابو محمد افضل صاحب انتقال فرما گئے۔تو اخبار حضرت میاں معراجدین صاحب عمر نے خرید لیا جو آپ کے زیر انتظام "بدر" کے نام سے سر تک برابر جاری رہا اور سلسلہ کی نہایت مخلصانہ خدمات انجام دیتا رہا۔-۱۵ - حاجی میران بخش صاحب قریشی محله فلوت انباله شهر ابعت: ۶۱۹۰۴ ، وفات : ظهور اگست به همش نہایت نیک طینت اور خوش اخلاق بزرگ تھے۔جماعت کی ہر تحریک میں حصہ لیتے تھے تبلیغ احمدیت کا بہت شوق تھا۔مسجد احمدیہ انبالہ جس کی زمین بابو عبد الرحمن صاحب امیر جماعت احمدیہ انبالہ نے دی تھی آپ ہی کی زیر نگرانی تعمیر ہوئی۔ظهور /اگست پیش کی درمیانی شب آپ اور آپ کی اہلیہ صاحبہ نہایت سفاکانہ رنگ میں شہید کر دیئے گئے۔ملک محمد مستقیم صاحب وکیل نے "الفضل ۲۰ اگست پیش میں اس المناک واقعہ کی تفصیل حسب ذیل الفاظ میں شائع کی :- مور ۱۴٫۱۳ اگست کی درمیانی شب کے گیارہ بجے جبکہ آپ اور آپ کی اہلیہ اپنے مکان میں سوئے ہوئے تھے۔آپ پر قاتلانہ حملہ ہوا۔پہلے حاجی صاحب مرحوم پہ قاتلوں نے تیز چاقو سے حملہ کیا اور پسلی کے قریب ایک گہرا زخم لگایا۔جس پر حاجی صاحب فوراً ہی جان بحق ہو گئے۔اِتا لله وإنا إليه را تعون۔اس ہیبت ناک واقعہ کو دیکھ کر ان کی اہلیہ کی آنکھ کھلی اور وہ شور مچا کر مدد حاصل کرنے کے لئے چھت پر پڑھنے لگی کہ سنگدل قاتلوں نے مرحومہ کو سیڑھیوں سے نیچے گرا لیا اور ایک دو وار میں ہی کام ختم کر دیا۔چھوٹی بچی بعمر دس ماہ ان کی گود میں تھی۔وہ اُن کے نیچے دب گئی اور ان کی لاش تڑپ کر ٹھنڈی ہو گئی۔بوقت ملاحظہ۔۔اُن کے جسم پر گہرے نہ خم آئے تھے اور جسم خون میں تر تھا۔انا للہ و إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون - نه په مسجد محلہ پختہ باغ کے چوک میں واقع تھی :