تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 191 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 191

۱۸ درج ذیل کئے جاتے ہیں :۔ا میاں خیر دین صاحب کما چوں (ضلع جالندھر) وفات : امان / مارچ رش - حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب حلالپوری - (زیارت مسیح موعود : نومبر تشاد بمقام لا بعد به مسیحیت تحریری ۱۷ فروری سشنامه دستی ۱۳ ر ا پریل شائد وفانت در امان مارچ سه رش حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب سلسلہ احمدیہ کے ایک بلند پایہ عالم ، بہت بڑے محقق ، علوم شرقیہ کے ماہر ، نہایت منکسر المزاج ، طبیعت کے سادہ، دل کے غنی اور محبت و اخلاص کے مجسمہ تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے عہد مبارک کے آخری ایام میں قادیان آئے اور حضور کے دست مبارک پر بیعت کر کے واپس چلے گئے۔پھر انتظار میں ہجرت کر کے مستقل طور پر قادیان میں رہائش پذیر ہو گئے۔پہلے مدرسہ احمدیہ میں مدرس ہوئے۔آخر میں جامعہ احمدیہ کے پروفیسر مقرر ہو کر شہر میں ریٹائر ہوئے ریٹائر ہونے کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثانی رض نے ان کے سپرد دو اہم کام کیئے :۔مجاہدین سفر یک جدید کی تعلیم و تربیت ۲- ترجمہ قرآن کریم کے لئے لغات کے حوالوں کی تخریج سے حضرت مولوی صاحب بوڑھے ہو چکے تھے اور مسئول بھی تھے مگر آپ یہ دونوں کام آخر دم تک نہایت خوش اسلوبی سے نبھاتے رہے۔آپ کی المناک وفات نے جماعت احمدیہ کے افراد کو عموماً اور علمی ذوق رکھنے والی شخصیتوں کو محسوس کرا دیا کہ جماعت سے صرف ایک عالم جدا نہیں ہوا بلکہ علوم کا ایک سورج اس دنیا سے ہمیشہ کے لئے غروب ہو گیا ہے۔چنانچہ حضرت میر محمد الحق صاحب ، حضرت مفتی محمد صادق صاحب ، مولانا ابو العطاء صاحب اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے آپ کے علم و فضل اور اخلاق وشمائل کی نسبت درد و گداز سے ڈوبے ہوئے مضامین لکھے اور شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ اور حضرت مولانا ذوالفقار علیخاں سائٹی نے آپ کی یاد میں مرشئے کے دیے دو له س الفضل در امان مارچ به شش صفحراج " ۱۳۱۹ صفحه ۹۴ رپورٹ پیلس مشاورت س ش صفحه ۱۷۸ 7145- ۲۱ مهرش صفحه ۴ و صفحه ۵ ۰ ۴۵ افضل ۱۲ رامان / مارچ میں & P هر در م "الفضل" 19 رامان / مارچ صفحه 4 4 ك " الفضل" و در امان مار یش صفحه ۲ ، " / " الفضل ۲۲ رامان از ماریج به بیش صفحه ۴ * 1414 191-