تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 183
164 ہوں غصب کر بیٹھے ہیں) ایسا انسان بھلا کس مونہہ سے یہ کہہ سکتا ہے کہ قادیان والے منافق ہیں۔مولوی صاحب نے شاید سمجھا ہوگا کہ باہر والے اتنے کمزور ہیں کہ جب وہ یہ سنیں گے کہ قادیان والوں کو انہوں نے اصل جماعت احمدیہ قرار نہیں دیا ہے بلکہ اصل جماعت احمدیہ باہر کے رہنے والوں کو قرار دنیا ہے تو وہ خوش ہو جائیں گے۔مگر یہ ان کی غلطی ہے۔ان سے پہلے اور بھی بعض لوگ اس قسم کی باتوں سے تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کر چکے ہیں۔چنانچہ مدینہ میں ایک شخص نے ایک دفعہ انصار اور مہاجرین میں تفرقہ پیدا کرنے کے لئے کہہ دیا تھا۔لا تُنفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا (المنافقون ۱ : ۱۳) ارے یہ لوگ روٹیاں کھانے کے لئے یہاں بیٹھے ہیں۔تم ذرا ان کی روٹیاں بند کر د پھر دیکھو گے کہ کس طرح یہ لوگ یہاں سے بھاگ نکلتے ہیں۔مگر جانتے ہو کہ یہ بات کہنے والے کا کیا حشر ہوا۔اسی کا بیٹا حضرت رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے باپ کے فعل پر لعنت ڈالی۔پس مولوی محمد علی صاحب کو بھی یاد رہے کہ ان کا یہ حملہ جو انہوں نے قادیان کی جماعت احمدیہ پر کیا ہے، اس سے باہر کے لوگ خوش نہیں ہوں گے بلکہ باہر کی جماعتیں خود اس حملہ کا جواب دیں گی اور وہ ان کی تائید نہیں کریں گی بلکہ اُن کے اس دعوے کی پر زور تردید کریں گی۔کیونکہ ان کا اخلاص اس بات کا تقاضا کرتا ہے اور اُن کے دل اس حسرت سے ٹیچر ہیں کہ کاش انہیں بھی قادیان میں رہنے کی توفیق ملتی۔وہ قادیان میں آنے کو نفاق نہیں سمجھتے بلکہ ایمان اور اخلاص کی علامت سمجھتے ہیں لے یہ اعلان چونکہ بیرونی مخلصین احمدیت کے دلوں کا ترجمان اور ان کی قلبی کیفیت کا آئینہ دار تھا اس لیے جو نہی حضرت امیر المومنین کی آواز اُن کے کانوں تک پہنچی انہوں نے مولوی محمد علی صاحب کے رویہ کے خلاف شدید نفرت کا اظہار کیا اور ریزولیوشن پاس کر کے قادیان کے احمدیوں کی فضیلت کا اقرار کیا۔اس سلسلہ میں انباغہ کی له الفضل لا فتح اردسمبر نمایش صفحه ۱۰۶۰۵ تھے حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضا زرماتے ہیں :۔"مولویصہ اس کے یہ الفاظ جب شائع ہوئے تو یہاں کے لوگوں نے ان کے خلاف احتجاج کے لئے جلسہ کرنا چاہا اور مجھ سے اس کے لئے اجازت طلب کی۔مگر میں نے کہا۔ہرگز نہیں یہ حملہ تم پر ہوا ہے۔پس یہ بات وقار کے خلاف ہے کہ تم ہی ان کا جواب بھی دور رسول کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مومن مومن بھائی ہوتے ہیں جب ایک پر حملہ ہو تو دو سر کو تکلیف پہنچتی ہے۔اس وقت باہر کی جماعتوں کے اخلاص کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اس کا جواب دیں اور تم ی رہی۔ہاں جب ان پر جملہ ہو تو اس وقت تمہارا فرض ہے کہ جواب دو " و " الفضل ۱۶ صلح (جنوری سایش صفحه ۵ * # ۱۱۹۴۲