تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 182
140 تھا بلکہ جب انہیں معلوم ہوا کہ اب دین اور ایمان کا سوال پیدا ہو گیا ہے تو انہوں نے مقابلہ کیا اور اس بات کی انہوں نے کوئی پروا نہ کی کہ وہ صدر انجمن احمدیہ کے ملازم ہیں۔پھر میں مولوی محمد علی صاحب سے کہتا ہوں۔مولوی صاحب ! آپ بھی قادیان کی نوکری کرتے رہے ہیں۔کیا اس وقت آپ کا ایمان بگڑا ہوا تھا یا سلامت تھا۔آپ تو اس وقت اڑھائی سو روپیہ ماہوار تنخواہ لیا کرتے تھے جن پر آپ اعتراض کر رہے ہیں ان میں سے اکثر تو ہمیں تمہیں بھا ئیں لینے والے ہیں مگر آپ اڑھائی سو روپیہ ماہوار وصول کیا کرتے تھے۔پس آپ بتائیں کہ آپ کے اعتقاد کا اس وقت کیا حال تھا۔پھر ہمارے اعتقادات کے بدلنے کا تو ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں مگر مولوی محمد علی صاحب کے متعلق ہمارے پاس اس بات کا قطعی اور یقینی ثبوت ہے کہ جب تک وہ قادیان سے اڑھائی سو روپیہ ماہوار تنخواہ لیتے رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نبی کہتے کہتے ان کی زبان خشک ہوتی تھی۔مگر جب وہ اڑھائی سو روپیہ ماہوار ملنے بند ہو گئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مجدد کہنے لگ گئے۔جس شخص کے ایمان کا یہ حال ہو کہ وہ اڑھائی سو روپیہ کے بدلے کسی کو نبی کہنے کے لئے تیار ہو جائے اور عدالتوں میں قسمیں کھا کھا کہ کہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نبی تھے اُسے یہ کس طرح زیب دیتا ہے کہ وہ دوسرو پر طعنہ زنی کرے۔پھر جس شخص کو اس دن کی روٹی بھی اسی ترجمہ کے طفیل ملی ہو جو اُس نے قادیان میں بیٹھ کر اور جماعت احمدیہ سے تنخواہ پا کر کیا تھا اس کو کب یہ زیب دیتا ہے کہ وہ قادیان والوں کی عیب چینی کرے۔حالانکہ اُس نے اُس روز صبح کو جو ناشتہ کیا تھا وہ بھی اسی ترجمہ کے طفیل تھا جو اُس نے قادیان میں باقاعدہ تنخواہ لے کر گیا۔اور اس نے اس روز ہو۔روٹی کھائی تھی وہ بھی اسی ترجمہ کے طفیل مھتی جو اس نے قادیان میں تنخواہ پر کیا اور اس نے اس روز جو کپڑے پہنے تھے وہ بھی اسی ترجمہ کے طفیل تھے جو اس نے قادیان میں تنخواہ پاکر کیا۔کیونکہ اس کا کون انکار کر سکتا ہے کہ جس ترجمہ کے کمشن پر مولوی صاحب کا گزارہ۔ہے وہ ترجمہ مولوی صاحب نے اپنے گھر سے کھا کر نہیں کیا بلکہ صدر انجمن احمدیہ سے تنخواہ لے کر اور اس کی خریدی ہوئی لائیبریری کی مدد سے کیا تھا۔(جس لائیبریری کو وہ بعد میں دھوکا دے کر کہ میں چند روز کے لئے لے جاتا