تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 181
تمیم ، میاں محمد صادق صاحب ، ڈاکٹر مرز الیعقوب بیگ صاحب ، ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب، ڈاکٹر بشارت احمد صاحب ، یہ سب عیسائی حکومت کے ملازم تھے کیا یہ سب ان ایام میں عیسائی ہو گئے تھے یا عیسائیوں کی ہاں میں ہاں ملانے لگ گئے تھے ؟ کیا اس وقت جو لوگ انجمن اشاعت اسلام کے ملازم ہیں وہ سب کے سب مولو یقینا کے تجربہ کے مطابق منافق ہیں کیونکہ وہ مولوی صاحب اور ان کی انجمن کے لڑ لگے ہوئے ہیں۔اگر مولوی صاحب کے نزدیک یہ لوگ منافق نہیں تو کیا وجہ ہے کہ وہ لوگ تو انگریزوں یا انجمن اشاعت اسلام کی ملازمت کر کے منافق نہ ہوئے مگر قادیان کے احمدی صدر انجمن احمدیہ کی ملازمت کر کے اپنے ایمان کو سلامت نہ رکھ سکے۔اگر صدر انجمن احمدیہ کی نوکری کرنے سے عقیدہ بھی بدل جاتا ہے تو پیغامیوں میں جتنے لوگ گورنمنٹ کے ملازم ہیں ان سب کے متعلق یہ سمجھا جانا چاہیے کہ یہ سب عیسائی ہیں۔کیونکہ مولوی محمد علی صاحب کے اس اصل کے مطابق یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ گورنمنٹ کے ملازم ہو کر انہوں نے اپنے ایمان کو محفوظ رکھا ہو۔پھر میں کہتا ہوں مولوی محمد علی صاحب کو اپنا تجربہ بھی یاد ہونا چاہیئے۔اب تو قادیان کی آبادی کا ایک کثیر حصہ ایسا ہے جو صدر انجمین احمدیہ کا ملازم نہیں مگر مجبہ مولوی محمد علی صاحب قادیان میں رہتے تھے تو یہاں کے اسی فی صد انجمن کے نوکر یا ان نوکروں سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے۔اور مولوی محمد علی صاحب کو یاد ہوگا کہ باوجود اس کے کہ وہی سیکرٹری تھے اور باوجود اس کے کہ خزانہ ان کے پاس تھا ، قادیان کے لوگوں نے مولوی صاحب کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا۔جب ایمان کا معاملہ آیا تو انہی قادیان والوں نے جس طرح مکھی کو دودھ سے نکال کو باہر پھینک دیا جاتا ہے، اسی طرح انہوں نے مولوی محمد علی صاحب کے نکال کر باہر کر دیا۔حالانکہ یہ وہ لوگ تھے جن کے مال اور جن کی جانیں اسی طرح مولوی محمد علی صاحب کے قبضہ میں تھیں جس طرح اب وہ ہمارے متعلق کہتے ہیں کہ ہمارے قبضہ میں لوگوں کے مال اور ان کی جانیں ہیں اگر اس وقت قادیان والوں نے ایمان کے معاملہ میں کسی قسم کی کمزوری نہیں دکھائی تو اب وہ کس طرح خیال کر سکتے ہیں کہ قادیان کے رہنے والے ایمان کے معاملہ میں کمزوری دکھاتے اور منافقت سے کام لیتے ہیں۔ان کو تجربہ ہے کہ قادیان وانوں نے اپنے ایمان کو فروخت نہیں کیا