تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 176
149 روں گا اور ان لیکچروں میں وہ دل کھول کر اپنے عقائد اور دلائل بیان کر لیں اور اس بات کی تسلی کر لیں کہ ان کے خیالات اچھی طرح ہماری جماعت تک پہنچ گئے ہیں اور اگر وہ کسی طرح بھی ماننے کو تیار نہ ہوں اور اپنی ہی بات دہراتے چلے جائیں تو اس کا علاج میرے پاس کوئی نہیں۔اس کا علاج خدا تعالیٰ ہی کے پاس ہے" سے جناب مولوی محمد علی صاحب نے قادیان میں لیکچر دینے کی اس دعوت کو لفظا منظور کرنے کے باوجود یہ مطالبہ کیا کہ " میں حاضر ہوں مگر اس کے لئے بہترین موقعہ جلسہ سالانہ ہے" کے حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے اس انوکھے مطالبہ کے جواب میں فرمایا :۔جلسہ سالانہ کے موقع پر ہماری جماعت لاکھ ڈیڑھ لاکھ کر ایہ کا خرچ کر کے اس لئے جمع ہوتی ہے کہ وہ میرے اور دوسرے علماء سلسلہ کے خیالات سُنے اور ہمارا اس وقت ان کی جہانی پر پھیس میں ہزارہ روپیہ خرچ ہوتا ہے۔کیا دوسرے کے خیالات سُننے کی اجازت دینے میں یہ احتراجات بھی شامل ہوتے ہیں کہ میں اپنے جلسہ کو اور لاکھوں کے خرچ کو مولوی صاحب کی مخاطر بر داشت کروں۔ہاں میں یہ کر سکتا ہوں کہ اگر جلسہ کے موقعہ پر ہی مولوی صاحب کو اپنے خیالات سُنانے کا شوق ہو ، تو شت جلسہ کے دو دن اور بڑھا دوں مگر اس شرط پر کہ ان دنوں کی مہمان نوازی کا خرچ مولوی صاحب بروست کریں جو ان دنوں کے لحاظ سے اوسطاً تین ہزار روپیہ روزانہ ہو گا۔پس مولوی صاحب چھ ہزار روپیہ اس غرض سے ادا کر دیں تو میں جلسہ کے دنوں کے بعد دو دن اُن کے لیکچروں کے لئے مقرر کر دوں گا۔اور اعلان کر دوں گا کہ جو دوست بھانے پر مجبور نہ ہوں، دو دن اور ٹھہر جائیں اور مولوی صاحب کے خیالات سُنتے جائیں۔اگر یہ نہیں تو یکیں یہ ہزاروں کا خریج ان کے لئے برداشت کرنے پر تیار نہیں اور نہ جماعت کو جو لاکھ ڈیڑھ لاکھ خرچ کر کے قادیان آتی ہے اسے اس کی خواہش سے محروم کر سکتا ہوں۔ہاں میری دعوۃ جو قادیان میں لیکچر کے متعلق ہے جس میں مجھے کوئی خاص خرچ کرنا نہیں پڑتا وہ موجود ہے۔اگر مولوی صاحب کو وہ منظور ہو تو بڑی خوشی سے تشریف لے آئیں" سے ل الفصل" ۲۶ وفا / جولائی یہ بیش صفحه ۶ کالم ۴۰۳ بے سے پیغام مسلح در اگست ۱۹۴۷ صفحه ۶ کالم کے الفصل ۱۴ر ظهور / اگست له مش صفحه ۲۳ P1971 ۰