تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 165
۱۵۸ تھا تفسیر کبیر کی مافوق العادت تاثیر اور مقناطیسی قوت کا ! چنانچہ علامہ نیاز نے حضرت سیدنا المصلح الموعود کی خدمت میں لکھا :- تفسیر کبیر جلد سوم آجکل میرے سامنے ہے اور میں اسے بڑی نگاہ غائر سے دیکھ رہا ہوں۔اس میں شک نہیں کہ مطالعہ قرآن کا ایک بالکل نیا زاویہ فکر آپ نے پیدا کیا ہے اور یہ تفسیر اپنی نوعیت کے لحاظ سے بالکل پہلی تغییر ہے جس میں عقل نوفل کو بڑے حسن سے ہم آہنگ دکھایا گیا ہے۔آپ کی تبحر علمی ، آپ کی وسعت نظر، آپ کی غیر معمولی فکر و فراست ، آپ کا حسن استدلال اس کے ایک ایک لفظ سے نمایاں ہے اور مجھے افسوس ہے کہ میں کیوں اس وقت تک بے خبر رہا۔کاش کہ میں اس کی تمام جلدیں دیکھ سکتا۔کل سورۃ ہود کی تفسیر میں حضرت لوط پر آپ کے خیالات معلوم کر کے جی پھڑک گیا اور بے اختیار یہ خط لکھنے پرمجبور ہو گیا۔آپ نے ھؤلاء بناتی کی تفسیر کرتے ہوئے عام مفترین سے جدا بحث کا جو پہلو اختیار کیا ہے اس کی داد دینا میرے امکان میں نہیں۔خدا آپ کو تا دیر سلامت رکھے " تفسیر کبیر اور نواب بہادر یار جنگ جناب سیٹھ محمد اعظم صاحب حیدر آبادی بیان کرتے ہیں کہ یہ غیر سند و پاکستان کی معروف شخصیت نواب بہادر یار جنگ (جن سے سیٹھ صاحب کے بڑے دوستانہ تعلقات تھے۔سالہا سال ان کے رفیق کار رہے ہیں جس کمرہ میں سویا کرتے تھے اس کی ایک دیوار پر قرآن کریم رکھنے کے لئے انہوں نے ایک خوبصورت تختہ لگوایا تھا۔تفسیر کبیر بجلد سوم کی اشاعت پر اس کی ایک جلد نواب اکبر یار جنگ بہادر نے سیٹھ صاحب موصوف کے ذریعہ نواب بہادر یار جنگ کو بھیجوائی تھی جس کا انہوں نے بالاستیعاب مطالعہ ایک سے زیادہ مرتبہ کیا تھا اور ان کی وفات تک جو بھون ۱۹۹۲ء میں واقع ہوئی وہ جلد اس تختہ پر قرآن کریم کے نسخہ کے نیچے رکھی ہوئی سیٹھ صاحب نے دیکھی ہے۔سیٹھ صاحب کہتے ہیں کہ نواب بہادر یار جنگ اپنی محبتوں میں تغیر کبیر کا اکثر ذکر کیا کرتے تھے اور اس کی عظمت کا ہمیشہ اعتراف کرتے اور کہا کرتے تھے کہ اس کے بیان کردہ معارف سے انہوں نے بہت استفادہ کیا ہے۔تفسیر کبیر اور پروفیسر عبد المنان بیدک جناب اختر اورینوی ایم اے صدر شعبہ اردو پٹنہ یونیورسٹی اپنا ایک سابق صدر شعبہ فارسی پٹنہ کالج چشم دید واقعہ بیان کرتے ہیں کہ " میں نے یکے بعد دیگہ سے حضرت خلیفہ المسیح الثانی رض کی تفسیر کبیر کی سند جلدیں پروفیسر عبد المنان بیدل ن والفضل" در نومبر ۱۹۶۳ صفحه ۳ کالم ۰۴