تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 164
۱۵۷ تفسیر کبیر میں قصص قرآنی کی عارفانہ تعبیریں اور تفصیلیں ملتی ہیں۔علم و حکمت ، روحانیت و عرفان ، نکته دانی و وضاحت کی تجلیاں شکوک و شبہات کے خس و خاشاک کو دور کر کے تفہیم و تسکین کی راہیں صاف و روشن کر دیتی ہیں۔تاریخ عالم ، قوموں کے عروج و زوال ، اسباب زوال سامان عروج ، نفسیات اجتماعی، فرد و جماعت کے روابط اور بندے کے اللہ سے تعلق کی اعلیٰ تحقیق و توضیح ملتی ہے۔معجزات ، پیش گوئیوں ، انبیاء اور غیر انبیاء کے خوابوں، رموز استعارات قرآنی و مقطعات کی حقیقی حکمتی اور ایمان افروز تعبیروں سے تفسیر کبیر کے اوراق تابناک ہیں۔اس عظیم تفسیر میں تعلیمات اسلامی کا فلسفہ نہایت عمدہ طور پر پیش کیا گیا ہے۔دوسرے مذاہب کی تعلیموں اور معروف فلسفوں سے موازنہ و مقابلہ بھی عالمانہ و منصفانہ رنگ میں کیا گیا ہے۔اسلامی تعلیمات کی پُر شوکت فضیلت سے دل کو طمانیت راحت و تسکین ملتی ہے اور ذہن کو رفعت حاصل ہوتی ہے۔اس تفسیر کا انداز نظر عصری اور سائنسی بھی ہے۔فلسفیانہ اور حکمتی بھی اور وجدانی دعرفانی بھی۔اس تفسیر اکبر کے عالم علم و عرفان کی تجلیات بیان کرنے کے لئے دفتر در دفتر چاہیئے۔یہ تفسیر ملت اسلامیہ کی بے بہا دولت ہے۔قرآن حکیم کی اس تفسیر سے امت محمدیہ کا مستقبل وابستہ ہے " تفسیر کبیر کے انقلاب انگیز اثرات بالآخر یہ بتانا زمیں ضروری ہے کہ تفسیر کبیرنے علمی اور عملی طور پر دنیا کے قلوب و اذہان پر نہایت گہرا اثر ڈالا ہے۔اس ضمن میں بعض واقعات درج ذیل کئے جاتے ہیں :- تفسیر کبیر اور علامہ نیاز فتنپوری اُردو کے مایہ ناز محق اور بلند پایه نقاد جناب نیاز محمد خان نیاز فتحپوری مرحوم پر تفسیر کبیر جلد سوم کے مطالعہ کا ایسا زبر دست اثر ہوا کہ ان کے خیالات و تصورات کی کایا پلٹ گئی اور وہ عمر کے آخری دور میں تحریک احمدیت کے زیر دست مداح بن گئے۔اور اپنے قلم سے احمدیت کی تائید اور دفاع میں متعد د زور دار مضامین اپنے رسالہ " نگار" میں ملاحظات " کے زیر عنوان لکھے اور یہ انقلاب نتیجہ اه " مجلة الجامعه ربوہ شماره ۹ صفحه ۶۳ - ۶۴ - ۶۵ + سے ان کا جواب مضامین کا مجموعہ ملاحظات نیاز نتھوری کے نام سے اس سال زیر لیے ہے جو مولوی محمد جمیل صاحب ایم اے شاہد مربی سلسلہ احمدیہ کراچی نے مرتب کیا ہے اور " امریک سنٹر فیڈرل بازار کراچی نمبر ۳۸ کی طرف سے شائع ہوگا۔انشاء اللہ تعالے۔(یہ سطور ماہ نبوت سوراخ کے آغاز میں لکھی جارہی ہیں۔مرتب )