تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 163
۱۵۶ جلدیں ہیں۔یہ تفسیریں سراج منیر ہیں۔ان سے قرآن حکیم کی حیات بخش شعاعوں کا انعکاس ہوتا ہے۔تفسیر قرآنی کی یہ دولت سرمدی دنیا اور عقبی کے لئے لاکھوں سلطنتوں اور ہزاروں ہزار جنتوں سے افضل ہے علوم قرآنی کے گہر ہائے آبدار کان معانی و معدنِ عرفان سے نکالے گئے ہیں۔خواص معارف پر فدا ہونے کو جی چاہتا ہے۔ان تفسیروں کی خوبیاں بیان کرنے کے لئے ایک دفتر چاہئیے۔میری ناچیز رائے میں تفسیر کبیر مندرجہ ذیل خوبیوں کی عامل ہے۔اس میں قرآن کریم کے تسلسل ، ربط تنظیم ، ترتیب، تعمیر اور سورتوں کے موضوعات و معانی کی ہم آہنگی کو صاف ، روشن و مدتی طور پر ثابت کیا گیا ہے قرآن مجید صرف ایک سلک مروارید نہیں بلکہ یہ ایک روحانی قصر الحمراء ہے۔ایک زندہ تاج محل ہے۔ان کے عناصر ترکیبی کے حسن کارانہ نظم وضبط ، اس کے تراشیدہ ایجاز بیان ، اس کی معجزانہ صنعت گری ، اس کی گہری ، وسیع اور بلند معنی آفرینی اور اس کے غیر ختم خزینہ علم و عرفان کا شعور تفسیر کبیر کے مطالعہ سے حاصل ہونے لگتا ہے۔قرآن کریم کے اس مقام عظیم کی فوریست در اصل محمد و عصر ظل محمد صلی اللہ علیہ وسلم حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کی دریافت ہے۔انگریز مصنف ادیب کار لائل نے قرآن مجید کے محاسن کو تسلیم کرنے کے باوجود یہ بات کہہ دی تھی کہ " قرآن ایک خوبصورت مگر بے ربط بیان ہے " It is a beautiful jargon حضرت مرزا محمود احمد نے نہایت لطیف و بلیغ انداز میں اس امر کو درجہ یقین تک پہنچا دیا کہ قرآن مجید ایک کتاب عظیم ہے اور اس کے ابواب و عناصر، اس کی سورتیں اور آیات گل و میدہ کی طرح محسن یوسف کی مانند نظام شمسی کی مثال مربوط و منظم ، متناسب ہم آہنگ اور حسین ہیں۔تفسیر کبیر کی یہ خصوصیت بھی ہے کہ اس میں انسانی تقاضوں ، ضرورتوں اور مسئلوں سے وابسته به کثرت نئے مضامین ، نکتے اور تفصیلیں ملتی ہیں اور ہماری روح اور ذہن کی تشنگی بجھاتی ہیں۔ہر سورۃ ہریارہ کی تفسیر میں معارف اور علوم کا دریائے رواں جوش مارتا ہوا نظر آتا ہے۔اس کے ذریعہ نئے علوم اور نئے مسائل پر گہری تنقیدیں ملتی ہیں اور اسلامی نظریوں کا اتنا تسلی بخش اظہار و بیان ملتا ہے کہ آخر الذکر کی برتری ثابت ہو جاتی ہے۔