تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 143 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 143

۱۴۰ کی ، مگر تفسیر کبیر کی قیمت ایک سو پچیس روپیہ تک پہنچ گئی۔اس تعلق میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضہ کا بیان فرمودہ ایک واقعہ درج کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔حضور نے ۲۸ فتح / دسمبر ۱۳۳۴ میش کو اپنی سالانہ ۶۱۹۵۵ جلسہ کی تقریر میں بتایا کہ سورۃ یونس سے سورہ کہف تک جو تفسیر ہے اس کے متعلق ایک غیر احمدی کا مجھے خط آیا کہ ایک احمدی نے مجھے یہ جلد دی تھی جسے وہ واپس مانگ رہا ہے۔میں سو روپیہ دیتا ہوں مگر وہ تفسیر نہیں دیتا۔آپ مجھے سو روپیہ پر لے دیں۔میں نے پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ ابھی اس کی ایک جلد ایک سو پچیس روپیہ میں پکی ہے۔میں نے کہا تم سو سمجھے کے کہتے ہو گے کہ تم بڑی قربانی کر رہے ہو وہ تو ۱۲۵ کو ابھی پکی ہے۔“ سے ب الہی میں مقبولیت حضرت خلیفہ اسیع الثانی نے سالانہ جلس ہر پیشے کے تفسیر کی جناب الی میں مقبولیت موقع کا ارشاد فرمایا کہ ۱۱۹۴۱ " تفسیر کبیر کا اثر تعلیم یافتہ طبقہ پر بہت اچھا ہے اور بعض لوگ اس سے گہرے طور پر متاثر ہوئے ہیں اور سب سے بڑی چیز تو یہ ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کے حضور مقبول ہو چکی ہے۔اور اس کی دلیل یہ ہے کہ دشمن نے اس کی مخالفت شروع کر دی ہے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک واقعہ سُنایا کرتے تھے کہ ایک بزرگ نے ایک کام بڑی نیک نیتی کے ساتھ کیا۔۔۔۔اور وہ اس پر بہت خوش تھے کہ اس کی توفیق ملی۔مگر کچھ عرصہ کے پر بعد وہ آپ سے ملے اور کہا معلوم ہوتا ہے میری نیت میں ضرور کوئی خرابی تھی کیونکہ میرا یہ کام خدا تعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں ہوتا۔میں نے کہا کہ آپ کی تحریک تو کامیاب ہوئی ہے۔بہت سے لوگ ممبر بھی ہو گئے ہیں ، چندہ بھی آنے لگا ہے۔پھر آپ کیسے کہتے ہیں کہ مقبول نہیں ہوا۔اس بزرگ نے جواب دیا کہ خدا تعالٰی کے ہاں کسی نیک کام کی قبولیت کا ثبوت یہ نہیں ہوتا کہ لوگ اس میں مدد کرنے لگیں۔بلکہ خدا تعالیٰ کے ہاں مقبول عمل وہ ہوتا ہے جس کی لوگ مخالفت کریں اور چونکہ میرے اس کام کی مخالفت کسی نے نہیں کی اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں ہوا۔اور اس پر وہ بہت افسردہ له " الفضل " ۵ار شہادت / اپریل سه مش صفحه ۲ کالم ۴ * >1904