تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 129
حیرت انگیز طور پر اضافہ ہو گیا۔ان کاتبوں کو دیکھ کر یوں معلوم ہوتا تھا کہ معرکہ درپیش ہے جس کو سر کرنے کے لئے یہ انتھک سپاہی سردھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔اسی طرح قادیان کے دو تو پریس ضیاء الاسلام پولیس اور اللہ بخش سٹیم پریس شب و روز تفسیر کی چھپائی کے لئے وقف تھے۔مولوی نور الحق صاحب کا بیان ہے کہ آخری دوماہ کے عرصہ میں روزانہ انہیں چند منٹ کرسی پر اونگھنا ہی نصیب ہوتا تھا۔کیونکہ اُن کے کمرہ میں حضور کی طرف سے گھنٹی لگی ہوئی تھی اور حضور رات اور دن کے اوقات میں کام کے لئے یاد فرماتے تھے۔اسی طرح کا پیاں پڑھنا ، کاتبوں سے انہیں درست کروانا ، پروف دیکھنا یہ سب کام مشکل ہی ختم ہوتے تھے آخری ایام میں حضور نے مولانا ابوالعطاء صاحب کو بھی پیر دنوں کے دیکھنے اور اصل لغات وغیرہ چیک کرنے کے لئے مقرر فرما دیا چنانچہ آپ نے سورۃ بنی اسرائیل اور سورۃ کہف کے حوالوں کو بھی ٹھیک کرنے کے علاوہ کا نبیوں کی لکھی ہوئی کاپیاں اور پر دن بھی پڑھے۔تاہم اس نوعیت کے کام کی اصل ذمہ داری را بخوانید مولوی نور الحق صاحب پر عائد رہی۔چنانچہ خود حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اپنی ایک تقریر میں ارشاد فرمایا کہ تفسیر کبیر جلد سوم۔۔۔کی لغت، ترجمہ اور تدوین کا اکثر کام اُن کے ریعنی مولانا محمد اسماعیل صاحب فاضل علالپوری ناقل) کے سپرد کیا گیا تھا۔گو آخری حصہ کے وقت موادی صاحب وفات پاچکے تھے۔تاہم تیسری جلد کی تدوین لغت اور ترجمہ کا بہت کچھ کام انہوں نے یہی کیا ان کی وفات کے بعد مولوی نور الحق صاحب کے سپرد یہ کام کیا گیا۔باوجود اس کے کہ ان کا علمی پایه مولوی محمد اسماعیل صاحب جیسا نہیں اور با وجود نوجوان اور ناتجربہ کار ہونے کے انہوں نے میرے منشار کو سمجھا اور خدا تعالیٰ نے انہیں میرے منشاء کے مطابق کام کرنے کی توفیق عطا فرمائی “ سے نے مولوی البو المنیر نور الحق صاحب کا بیان ہے کہ " کاتبوں کے متعلق حضور کا خاص طور پر ارشاد تھا کہ ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھا جائے تاکسی کی صحت میں نقص پیدا ہو کر کام میں روک نہ پیدا ہو جائے بچتا بچہ رات دن ان کاتبوں کو ہر وہ چیز مہیا کی جاتی تھی جس کے وہ عادی تھے اور ہر طرح ان کی دلداری کی جاتی تھی“ ہے یه کره دفتر تحر یک جدید قادیان کی بالائی منزل میں دختر پرائیویٹ سیکرٹری سے متصل تھا اور اسی کمرہ میں تغییر لکھنے والے کا تب کام کرتے تھے۔له الفضل“ وارو فار جولائی پیش صفہ و کالم ! حضرت خلیفہ اسیح الثانی رض نے اس اظہار خوشنودی کی ایک ۶۱۹۴۵ عملی صورت یہ بھی فرمائی کہ قصہ خلافت میں انہیں خصوصی طور پر شرف باریابی بخشا اور اپنے مبارک ہاتھوں سے اپنا ایک چوغہ پہنایا جو ابتک اُن کے پاس موجود ہے ؟