تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 128 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 128

۱۲۵ غیرمطبوعہ مسودہ کا ایک حصہ ہو سورہ ہود کی آیت 1 سے لے کر سورہ یوسف کی آخری آیت تک کے مضامین مشتمل تھا، سپرد فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ منشی عبد الحق صاحب خوشنویں سے اس کی کتابت کروائی جائے بیچنا نچہ اس کی تعمیل میں منشی صاحب موصوف نے کتابت شروع کر دی۔اس کے ساتھ ہی حضور نے ہدایت فرمائی کہ سورۃ رعد سے لے کر سورۃ بنی اسرائیل تک کے مرتب شدہ نوٹ دوبارہ نقل کروائے بھائیں اور حل لغات درج کرانے اور حوالہ جات لگانے کے بعد حضور کی خدمت میں پیش کئے جائیں۔چنانچہ مولوی تو الحق صاحب، حافظ قدرت اللہ صاحب ، مولوی محمد صدیق صاحب ، مولوی صدر الدین صاحب اور مرزا منور احمد صاحب واقفین تحریک جدید) نے بقیہ مسودہ صاف اور خوشخط کر کے نقل کیا۔حل لغات اور حوالوں کے نکالنے کا کام مولوی نور الحق صاحب نے انجام دیا حضرت امیر المومنین نے سورہ رعد اور سورہ ابراہیم کے مسودہ پر ماہ ظہور (اگست میں نظر انی فرمائی اور باتری منشی بالای ما اور قاضی نورمحمد حیات نے اس مضمون کی کتابت کی۔ماہ تبوک دستمبر میں حضور انور نے بذریعہ تار سورہ حجر کا مسودہ شملہ منگوایا۔حضور شملہ سے ۳ اضاء (اکتوبر) کو واپس قادیان دارالامان تشریف لائے۔اس وقت تک تغیر کے ۴۹۶ صفحات کی کتابت ہو چکی تھی۔حضور نے فرمایا که سالانہ جلست تک تفسیر مکمل طور پر تیار ہو جانی چاہئیے۔وقت نہایت تنگ تھا اور صورت یہ تھی کہ سورہ حجر کے بعد کی سورتوں پہ نظر ثانی تک کا کام ابھی باقی تھا۔حضور در حقیقت تقریباً سارا مسودہ دوبارہ ہی اپنے قلم مبارک سے لکھ رہے تھے۔کیونکہ پہلا لکھا ہوا مسودہ بہت اہنی مختصر تھا۔علاوہ ازیں کتابیت ، طباعت ، اور جلد بندی کے مراحل باقی تھے بحضور نے کتابت کا کام بروقت مکمل کرانے کے لئے ارشاد فرمایا کہ متعدد کا تب مقرر کر دیئے جائیں تا نظر ثانی کے ساتھ ساتھ مضمون کی کتابت بھی بھاری رہے۔چنانچہ منشی عبد الحق۔صاحب اور قاضی نور محمد صاحب کے علاوہ (جو پہلے سے مصروف کتابت تھے ، قاضی بشیر احمد صاحب بھٹی، منشی محمد اسمعیل صاحب اور منشی احمد حسین صاحب سے کی خدمات حاصل کی گئیں جس سے کام کی رفتار میں ے والد ماجد ابو المنیر مولوی نورالحق صاحب۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے صحابی ہیں۔آپ کی بیعت عشانہ کی ہے۔آپ کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی متعدد کتب کی کتابت کا موقعہ ملا۔اور حضور کو آپ کا خط بہت پسند تھا تاریخ احمدیت جلد سوم میں بھی آپ کا ذکر آچکا ہے ہے تفسیر کبیر جو ششم یعنی تیسویں پارہ کی تفسیر کی کتابت کی ان کو سعادت نصیب ہوئی جو اب وفات پا چکے ہیں، سے ان تاریخی مسودات کا اکثر و بیشتر حصہ اب بھی مخلافت لائیبر بیری ربوہ میں محفوظ ہے کہ ابن حضرت قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی ہم جکل آپ راولپنڈی میں رہتے ہیں۔عربی طرز قاعده لیست رنا ! آپ حضرت پیر منظور محمد صاحب کے شاگر دخاص ہیں حضرت پیر صاحب (معذوری کے بعد ) آپ ہی۔مد ) آپ ہی سے قرآن مجید لکھوایا کرتے تھے ، شہ آپ ہجرت ماہ کے بعد فیروز والا ضلع گوجرانوالہ میں رہائش پذیہ میں حضرت مسیح موعود کی کتب کا مکمل ریدہ نے روحانی قرائن کے نام پر شائع کیا ہے آپ ہی نے لکھا ہے نہ ولد موجب میں میں کتابت کرتے آرہے ہیں ،