تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 124
۱۲۱ تربیت پر لگے ہوئے ہیں۔ہسپتال جس کا خرچ جماعت احمدیہ برداشت کرتی ہے۔منظم اور ایک حد تک آلات و ادویات سے آراستہ ہے۔بورڈنگ ہاؤس کی عمارت بہت وسیع اور شاندار شاہجہانی وضع پر تعمیر کی گئی ہے جو ایک پر فضا مقام پر سکول کے متصل ہے۔اس کے قریب وہ میدان ہے جہاں جماعت کے ضروری اور سالانہ اجلاس ہوتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ سالانہ اجلاس کی تیاری اس میدان میں نہایت وسیع پیمانے پر ہو رہی تھی۔مہمانوں کے قیام، ہمانوں کے طعام و ضروریات زندگی کی فراہمی پر اراکین کی سعی بلیغ قابل تحسین و قابل تقلید تھی۔اوقات و اہتمام کی تقسیم جو اس جماعت کی نمایاں خوبی ہے ، سرعت و خلوص نیت کے ساتھ کار فرما تھی۔گو میں سالانہ اجلاس کے وقت تک قیام نہ کر سکا مگر انتظام و اہتمام کے نقوش میرے سامنے تھے اور ہر وقت میں اُن کی یک جہتی کا قائل اور اُن کی مدنیت کا شیدا ہوتا گیا۔قبرستان کا اہتمام اور اس میں صنعت بندی میں نے پہلی مرتبہ قادیان میں دیکھی بغیر کسی آرائش اور لحاظ منصب کے اس قبرستان میں قبور ایک صف میں بنائی گئی ہیں مدفن کی لوح ، مدفونوں کی ایک مختصر تاریخ وفات اور وصیت نامہ کے نمبر رجسٹری کے ساتھ کند ہوتی ہے۔ہر قبر پہ بالالتزام یہ لوح ہوتی ہے۔ہر قبر دوسری قبر سے معقول فاصلہ پر ہوتی ہے ہر صف کے آمدو رفت کے لئے راستہ چھوڑا جاتا ہے اور ممکن طریقہ پر اس قبرستان کو سایہ دا درختوں سے خوش نما کیا گیا ہے۔قادیان میں اکثروں نے ترک وطن کر کے سکونت اختیار کر لی ہے۔یہاں ایک ایسی انجمن بھی ہے جو اپنی جماعت کو قادیان میں تعمیر مکان کیلئے قرضہ دیتی ہے۔بالاقساط وصول کرتی ہے۔اس جماعت کے اراکین اپنی املاک جماعت کے لئے وقف کر دیتے ہیں اور اس کا انتظام بھی ایک خاص محکمہ کی نگرانی میں ہوتا ہے۔خزائد ، داد وستد امور مذهبی ، نشر و اشاعت ، اہتمام ترکه و وقت کے لئے محکمہ جات قائم ہیں۔بہر ایک کے لئے مقررہ عملہ اور عہدہ دار ہیں۔ان سب دفاتر پر خلیفہ ثانی حضرت میاں بشیر الدین محمود صاحب کی نگرانی ہے جو بالذات روزانہ اس کی خدمات کی جانچ کرتے ہیں : حبس زمانہ میں مجھے قادیان بجانے کا اتفاق ہوا حضرت خلیفہ صاحب تفسیر قرآن لکھنے میں مصروف