تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 122
119 آبادی کو ان کی ضرورت ہے۔یہ بلالحاظ مذہب و ملت ہر ایک سے حسن سلوک کے ساتھ ملتی ہیں جو کچھ ممکن ہوتا ہے اس کی خدمت کرتی ہیں۔اطمینان اور دلاسہ دیتی ہیں۔بہر حال برسوں کی آرزو پوری کر کے عزیزوں سے مل کے، قادیان کو دیکھ کے، قادیان سے رخصت ہو گیا۔جی تو چاہتا ہے کہ ایک دفعہ اور ہو آؤں مگر اے بسا آرزو که خاک شده" اب تک تو یہی ہو رہا ہے آئندہ کی خبر خدا جانے۔والسلام - سلیم بیگ مرزا سلیم بیگ صاحب نے اپنے سفر قا دیان م صاحب کا ایک اور تحریری بیان کے رات کا اظہار اپنے ایک دوسرے تحریری بیان میں بھی کیا۔چنانچہ انہوں نے لکھا :۔اہ میں پہلی مرتبہ مجھے قاہرہ (مصر) بجانے کا اتفاق ہوا۔میں قاہرہ میں ٹھہر گیا۔اور مرے ہم سفر دوست دو روزہ قاہرہ میں ٹھہر کہ یورپ چلے گئے۔تقریباً ایک ہفتہ کے بعد مجھے قاہر میں محمود احمد صاحب عرفانی سے ملنے کا شرف حاصل ہوا۔کچھ وطنیت کچھ سلسلہ واقفیت نے ہم دونوں کو اس طرح متحد کیا کہ میرا اکثر وقت محمود احمد صاحب عرفانی کے ساتھ گزرنے لگا۔عرفانی صاحب قاہرہ میں جماعت احمدیہ کی طرف سے مبلغ اسلام تھے اور وہاں اپنے مشن کا کام مصریو میں نہایت ہی خوبیوں کے ساتھ کہ رہے تھے۔اجنبیت اور غیر ملکی ہونے کے باوجود عرفانی صاحب نے مصری شرفاء کی مجلسوں میں اچھا رسوخ پیدا کر لیا تھا۔نامور اور ذمہ دار مستیوں سے مراسم رکھتے تھے۔اس لئے عرفانی صاحب کی وجہ سے مجھے قاہرہ اور زندگی قاہرہ کے مطالعہ کا کافی موقع ملا۔اور مکیں اس مشن کی کوششوں کو بھی دیکھتا رہا جو عرفانی صاحب مبلغ کی حیثیت سے وہاں انجام دے رہے تھے۔عرفانی صاحب کی ہی رہبری سے فلسطین اور شام میں محبت احمدیہ کے تبلیغی مشن کی کوششوں کو دیکھا۔دوسری مرتبہ 29 میں قاہرہ بجانے کا اتفاق "سيرة حضرت سيدة النساء ام المومنين نصرت جہاں بیگم " صفحه ۱۹۶ تا ۱۹۸ (حصہ دوم) ناشر حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کبیر حیدر آباد دکن تاریخ اشاعت ۲۵ جولائی شانه و مطبوعه انتهای پرسیس حیدر آباد دکن)