تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 111
گورو نانک کو مسلمان کہتے ہیں۔پھر کہتے ہیں صاحبزادے شہید نہیں ہوئے۔گور و تیغ بہادر نے خودکشی کی کس قدر ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ہماری ساری انتہاس پر پانی پھیرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اور دل آزاری کیا ہوگی۔باقی رہی یہ بات کہ ریاست بنانے سے انکار کرتے ہیں۔میں تو کہتا ہوں کہ تم ریاست بنانے والے کب پیدا ہوئے۔اگر ریاست قائم ہو تو جو لوگ اکالی دل کی رہنمائی میں قربانیوں کے لئے تیار ہوں وہ ہاتھ اٹھائیں " لوگوں نے یہ سنتے ہی ہاتھ اُٹھا دیئے اور عہد کیا کہ وہ کٹ مریں گے مگر احمدیوں کی ریاست نہیں قائم ہونے دیں گے۔اس موقعہ پر چونکہ قادیان اور اس کے ماحول کی فرقہ وارانہ فضا قیام امن کیلئے انتظامی کمیٹی تشکیل میں کے مکدر ہونے کا خطرہ لاحق ہو گیا تھا اس لئے کا نفرنس کے انعقاد سے ایک روز قبل ۱۶ نبوت / نومبر اس پر مہش کو مرکز احمدیت میں امن عامہ کے قیام ، مقامات مقدسہ کی حفاظت اور سکھ لیڈروں اور سرکاری افسروں سے گفتگو کرنے اور ان کی مہمان نوازی کے فائض انجام دینے کے لئے ایک انتظامیہ کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے سیکرٹڑی اور نگران عمومی حضرت سید زین العابدات ولی اللہ شاہ صاحب ناظر امور عامہ مقرر کئے گئے۔اس کمیٹی کے ممبروں میں صدر انجین احمدیہ کے ناظر اعلیٰ اور آئین کے دوسرے ممتاز مہر شامل تھے سرکاری افسروں کے سامنے جماعت کے موقف کی سیاسی نمائندگی کا فریضہ حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم اے اور حضرت خانصاحب مولوی فرزند علی خانصاحب کے سپرد ہوا سکھوں کے ساتھ گفتگو کے لئے حضرت مولوی عبد المغنی خان صاحب کا نام تجویز ہوا مہمان تواری کی خدمت حضرت میر محمد اسحق صاحب ناظر ضیافت کے ذمہ لگائی گئی۔انتظامیہ کمیٹی کے ایک ممبر حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی بھی تھے جن کے فرائض میں پہرہ داروں کا تقریر اور ان کی نگرانی کا کام تھا۔اس بر وقت اقدام کا یہ فائدہ ہوا کہ اگر چہ سکھ جلوس اصل رستہ چھوڑ کر احمد نی آبادی میں سے گزرا اور پھر اس کے مقرروں نے اپنی تقریروں میں جماعت احمدیہ کے خلاف سخت زہر اگلا اور علاقہ میں زبر دست اشتعال پھیلانے میں اپنا پورا زور صرف کر دیا۔مگر اس کے با وجود ان ایام میں کسی قسم کا کوئی ناخوشگوار وقعہ پیش نہیں آیا۔له " الفضل" ۲۱ نبوت / نومبر اش صفحه ۲-۸ :