تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 108 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 108

۱۰۵ کوئی سیاسی مصلحت ہرگز کار فرما نہ تھی مگر افسوس کہ احمدیت کی مخالف طاقتوں نے جو برسوں سے مخالفت کا محاذ قائم کئے ہوئے تھیں، اس نقشہ کو جماعت احمدیہ کے خلاف اشتعال پھیلانے کا ایک ذریعہ بنا لیا اور سکھوں کو اکسانے کے لئے یہ پراپیگنڈہ کرنا شروع کر دیا کہ احمدی حکومت سے گٹھ جوڑ کر کے اپنی ریاست قائم کرنے کے منصو بے باندھ رہے ہیں۔اس سلسلہ میں گورمکھی کا ایک اشتہار بھی شائع کیا گیا۔جس کا خلاصہ یہ تھا کہ احمدیوں کی طرف ہند کو یہ تحریک کی جا رہی ہے، کہ قادیان کے ارد گرد دس دس کوس تک ان کی ریاست مان لی جائے جس کے بدلے میں پیسہ اور آدمیوں کے ذریعہ یہ موجودہ گورنمنٹ کی جنگ میں امداد کریں گے۔اس اشتہار میں نا واقعہ اور سادہ لوح سکھوں کو بھڑکا یا گیا تھا کہ ۱۷- ۱۸ نومبر ۱۹۴۰ کو صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے قادیان کے قریب بوہڑ صاحب میں جمع ہو جائیں۔یہ جو ہر صاحب وہی مقام تھا جہاں پر کو سکھوں سے مشتعل ہجوم نے مذبع گرایا تھا سکے سیکھ وفقد قادیان میں سے یہ پراپیگنڈہ جب یکایک زور پکڑ گیا تو علاقہ کے سکھوں کا ایک وفد حقیقت حال معلوم کرنے کے لئے قادیان پہنچا۔تحقیق و تفتیش کے بعد جب یہ سب کہانی من گھڑت نکلی تو و قد مطمئن ہو کر واپس چلا گیا اور اس نے حسب ذیل بیان دیا :- و ہم نے بصورت وقد قادیان بجا کر چوہدری فتح محمد صاحب سیال ناظر اعلی قادیان سے ملاقات کی ہے۔چودھری صاحب خلیفہ صاحب قادیان کے چیف سکرٹری بھی ہیں ہم نے ان سے دو یات کیا ہے۔انہوں نے رجسٹر اخبار نقشہ وغیرہ دکھا کہ ہماری پوری طرح تسلی کر دی ہے کہ یہ اقواہ کہ مرزا صاحب قادیان والے دس دس کوس تک قادیان کے گردا گرد ریاست بنا رہے ہیں یہ بالکل غلط ہے۔احمدیوں نے اخبار میں بھی اس افواہ کی تردید کر دی ہے۔یہ افواہ احراریوں نے اڑائی ہے۔اور ان کا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ احمدیوں اور سکھوں کے تعلقات کو کشیدہ کر دیں۔ہم اکالی بھائیوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ اگر وہ کا نفرنس کریں تو مذہبی کانفرنس کریں۔ایسی افواہ پر سیاسی تقاریر کر کے علاقہ کی فضا کو خراب نہ۔له الفضل " نبوت / نومبر صفحه۔" ۲ ایش ۱۰ + ۱۹۴۰ء سکو تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو " تاریخ احمدیت " جلد ششم صفحه ۱۶۹ - ۱۷۰۔+14=-