تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 91
4۔(۸) قادیان میں مرکزی مجلس انصار اللہ کا ایک باقاعدہ دفتر مقر کیا جائے جس میں جملہ ریکارڈ باقاعدہ طور پر رکھا جائے۔ہر قائد کو دفتر کے عملہ سے اپنے اپنے شعبہ کے تعلق میں کام لینے کا اختیار ہوگا مگر ویسے انتظامی طور پر عملہ دفتر صدر کی ماتحتی میں سمجھا جائے گا۔(9) قادیان کے ہر محلہ میں نہینہ میں کم از کم انصار اللہ کا ایک مقامی جلسہ منعقد ہونا ضروری ہوگا اور سال کے کسی مناسب حصہ میں سارے انصار اللہ کا ایک مشترکہ جلسہ منعقد کیا جائے گا جس میں بیرونی عہدے داران و نمائندگان کو شرکت کی دعوت دیا جائے اور اس موقعہ پر حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں بھی درخواست کی جایا کرے کہ حضور اس موقعہ پر انصار اللہ کو اپنے روح پرور نصائح سے تفیض ہونے کا موقعہ عطافرما دیں۔(۱۰) جماعت کا ہر فرد جو چالیس سال یا چالیس سے اوپر کی عمر کا ہے وہ قادیان شریف میں لازمی طور پر انصار اللہ کارکن سمجھا جائے گا۔بیر و نجات میں مقامی انجمنوں کے عہدہ دار جو اس عمر کے ہوں ، وہ بھی لازماً انصار اللہ کے عمبر مجھے بجائیں گے اور باقیوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ بھی انصار اللہ کے ممبر بنیں اور ایسی تحریک ہوتی رہنی چاہیے۔(11) تمام ممبروں سے کم از کم ایک آنہ ماہوار کے حساب سے چندہ لیا جائے گا حسین کا باقاعدہ حساب رکھا جائے گا۔(نوٹ: بیرونی انجمنیں اپنے مقامی چندوں کا ۷۵ فیصدی اپنے پاس رکھ کر اپنے طور پر خرچ کر سکتی ہیں۔باقی مرکز میں آنا چاہیے لیکن حساب کتاب بہر حال باقاعدہ ہونا چاہیئے۔(۱۲) اپنے ممبروں کی علمی اور عملی ترقی کے لئے مرکزی نظام انصار اللہ کی طرف سے سال میں ایک دفعہ کتب سلسلہ کا امتحان مقرر کیا جائے گا جو حتی الوسع سب جگہوں پر منعقد ہوا کرے گا اور نتیجہ اخبار میں شائع کیا جایا ۱۰۰ اور اول و دوم وسوم نکلنے والوں کو مناسب انعام دیئے جائیں۔کرے گا۔اول یہ امتحان کی شرکت کے لئے زیادہ سے زیادہ وسیع پیمانہ پر تحریک کی جائے۔(۱۳) جن ممبران انصار اللہ کا کام سال کے دوران میں خصوصیت سے نمایاں ہو۔انہیں جلسہ سالانہ کے موقع پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے ہاتھ سے مناسب انعام دلوایا جائے تاکہ کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو۔(۱۲) قائد تبلیغ اور جملہ مہتمان تبلیغ کا فرض ہوگا کہ اپنے اپنے حلقہ میں تبلیغ کا بہترین انتظام کریں۔کہ ہر