تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 88
AL ہوتی ہے اُسے مٹا ڈالتی ہے۔ہر عمارت جو اس کے سامنے آتی ہے۔اُسے گرا دیتی ہے۔ہر چیز جو اس کے سامنے آتی ہے اُسے بکھیر دیتی ہے اور اس طرح وہ دیکھتے ہی دیکھتے چاروں طرف ، اس طرف بھی اور اس طرف بھی بڑھتی چلی جاتی ہے اور دنیا پر اس طرح چھا جاتی ہے کہ کوئی قوم اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔مگر پھر ایک وقت ایسا آجاتا ہے جب نظام سو جاتا ہے اور عوام جاگتے ہیں۔یا عوام سو جاتے ہیں اور نظام بھاگتا ہے۔اور پھر آخر میں وہ وقت آتا ہے جب نظام بھی سو جاتا ہے، اور عوام بھی سو جاتے ہیں۔تب آسمان سے خدا تعالے کا فرشتہ اُترتا ہے اور اس قوم کی رُوح کو قبض کر لیتا ہے۔یہ قانون ہمارے لئے بھی بھاری ہے جاری رہے گا اور کبھی بدل نہیں سکے گا۔پس اس قانون کو دیکھتے ہوئے ہماری پہلی کوشش یہی ہونی چاہیئے کہ ہمارا نظام بھی بیدار رہے اور ہمارے عوام بھی بیدار رہیں۔اور در حقیقت یہ زمانہ اسی بات کا تقاضا کرتا ہے۔خدا کا مسیح ہم میں قریب ترین زمانہ میں گذرا ہے۔اس لئے اس زمانہ کے مناسب حال ہمارا نظام بھی بیدار ہونا چاہئیے۔اور ہار سے عوام بھی بیدار ہونے چاہئیں۔مگر چونکہ دنیا میں اضمحلال اور قوتوں کا انکسار انسان کے ساتھ ساتھ لگا ہوا ہے اس لئے عوام کی کوشش یہ ہونی چاہیئے کہ وہ نظام کو جگاتے رہیں اور نظام کی کوشش یہ ہونی چاہیئے کہ وہ عوام کو جگاتا رہے تا خدانخواستہ اگر ان دونوں میں سے کوئی سو جائے، غافل ہو جائے اور اپنے فرائض کو بھول جائے تو دوسرا اس کی جگہ پہلے۔اور اس طرح ہم زیادہ سے زیادہ اس دن کو بعید کر دیں جب نظام اور عوام دونوں سو جاتے ہیں اور خدائی تقدیر موت کا فیصلہ صادر کر دیتی ہے۔پس دونوں کو اپنے اپنے فرائض ادا کرنے کی کوشش کرنی چا ہیئے تاکہ اگر دونوں نہ جائیں تو کم از کم ایک تو جاگے اور اس طرح وہ دن جو موت کا دن ہے ہم سے زیادہ سے زیادہ دور رہے۔۔پس میں اس نصیحت کے ساتھ انصار اللہ کو بھی بیدار کرنا چاہتا ہوں۔اور اگر یہ دونوں یعنی خدام از محمد ید اور خدام الاحمدیہ کو بھی بیدار کرنا چاہتا ہوں۔۔انصار الله مل کر جماعت میں بیداری پیدا کرنے کوشش کریں تو اللہ تعالی کے فضل سے اس بات کی معیار کی جاسکتی ہے کہ اگر خدانخواستہ کسی وقت ہمارا نظام سو جائے تو یہ لوگ اس کی بیداری کا باعث بن جائینگے اور اگر یہ خود سو جائیں گے تو نظام ان کو بیدار کرتا رہے گا " اے له " الفضل" ارنبوت / نومبر صفحه ۴ تا ۰۰ ۱۳۲۲ مرش