تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 87
Aч کسی شخص سے مخفی نہیں ہو سکتا۔نوجوان تو خیال بھی کر سکتے ہیں کہ اگر ہم سے خدمت خلق میں کوتاہی ہوئی تو اتصال اللہ اس کام کو ٹھیک کر لیں گے مگر انصاراللہ کس پر انحصار کر سکتے ہیں، وہ اگر اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی سے کام لیں گے اور اگر دین کی محبت اپنے نفوس میں اور پھر تمام دنیا کے قلوب میں پیدا کرنے میں کامیاب نہ ہوں گے۔وہ اگر احمدیت کی اشاعت کو اپنا اولین مقصد قرار نہ دیں گے اور وہ اگر اس حقیقت سے اغماض کر لیں گے کہ انہوں نے اسلام کو دنیا میں پھر زندہ کرنا ہے۔تو انصار اللہ کی عمر کے بعد اور کونسی عمر ہے جس میں وہ یہ کام کرینگے۔انصار الله کی عمر کے بعد تو پھر ملک الموت کا زمانہ ہے۔اور ملک الموت اصلاح کے لئے نہیں آتا بلکہ وہ اس مقام پر کھڑا کرنے کے لئے آتا ہے جب کوئی انسان سزا یا انعام کا مستحق ہو جاتا ہے۔پس میں ایک دفعہ پھر انصار اللہ کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے فرائض کو سمجھیں ایک دفعہ پہلے بھی میں نے انہیں کہا کہ وہ بھی مقدام الاحمدیہ کی طرح سال میں ایک دفعہ خاص طور پر لوگوں کو باہر سے بلوایا کریں تاکہ ان کے ساتھ مل کر اور گفتگو اور بحث و تمحیص کر کے انہیں دوسروں کی مشکلات کا احساس ہوا اور وہ پہلے سے زیادہ ترقی کی طرف قدم اٹھا سکیں۔۔۔۔مگر اب تک انصار اللہ کا کوئی جلسہ نہیں ہوا۔پس میں ایک دفعہ پھر جماعت کے مخلصین کو توجہ دلاتا ہوں کہ اُن پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہے۔یاد رکھو اگر اصلاح جماعت کا سارا دار و مدار نظارتوں پر ہی رہا تو جماعت احمدیہ کی زندگی کبھی نہیں نہیں ہوسکتی۔یہ خدائی قانون ہے جو بھی پہل نہیں سکتا۔ایک حصہ میں گا یا ایک حصد جائیگا۔ایک حصہ فائل ہوگا اور ایک حصہ ہوشیار ہوگا۔خدا تعالیٰ نے دنیا کو بنا کر فیصلہ کر دیا ہے کہ اس کے قانون میں یہ بات خاص کے کہ نی کا ایک حصہ ہے اور ایک حصہ جاگے ہی نظام اور عوام کے کام کا اس دنیا میں دکھائی دیتا ہے۔حقیقت پر تو ہیں تقدیر اور دیر کے کبھی عوام سوتے میں ان نظام جاگتا ہے۔اب بھی نظام ہوتا ہےاور عوام جانتے ہیں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ نظام بھی جاتا ہے ان عوام بھی جاگتے ہیں اور وہ وقت بڑی باری کامیابی اور تورات کا ہوتا وہ گھڑیاں جب کسی قوم پر آتی ہیں۔جب نظام بھی بیدار ہوتا ہے اور عوام بھی بیدار ہوتے ہیں تو وہ اس قوم کے لئے فتح کا زینہ ہوتا ہے۔وہ اس قوم کے لئے کامیابی کا زمانہ ہوتا ہے۔وہ اس قوم کے لئے ترقی کا زمانہ ہوتا ہے وہ شیر کی طرح گرجتی اور سیلاب کی طرح بڑھتی چلی جاتی ہے۔ہر روک جو اس کے راستہ میں حائل