تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 79 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 79

کو جو طاقت پہلے سے حاصل ہے اس کو بھی ضائع کر دیا جائے " اے انصار الله کی حیثیت جماعتی نظام میں کیا ہے ؟ اس کی وصیات انصار اللہ کی حیثیت جماعتی نظام میں بھی حضرت خلیفہ المسیح الثانی رض نے مجلس کی بنیاد کے زمانہ میں فرما دی تھی۔چنانچہ فرمایا :- انتصار اللہ کو تنظیم کے لحاظ سے علیحدہ ہیں مگر بہر حال وہ لوکل انجمن کا ایک حصہ ہیں۔ان کو بھی کوئی پریذیڈنٹ بحیثیت جماعت حکم نہیں دے سکتا۔ہاں فردا فردا وہ انصار اللہ کے ہر ممبر کو اپنی مدد کے لئے بلا سکتا ہے اور انصار اللہ کا فرض ہے کہ وہ لوکل انجمن کے ہر پریذیڈنٹ کے ساتھ پورے طور پر تعاون کریں۔بہر حال کوئی پریذیڈنٹ انصار اللہ کو بحیثیت انصار الله یا خدام الاحمدیہ کو بحیثیت خدام الاحمدیہ کسی کام کا حکم نہیں دے سکتا۔وہ یہ تو کہہ سکتا ہے کہ چونکہ تم احمدی ہو اس لئے آؤ ، اور فلاں کام کرو۔مگر وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ آؤ انصاریہ کام کر دیا آؤ غلام یہ کام کرو۔خدام کو قدام کا زعیم مخاطب کر سکتا ہے اور انصار کو انصار کا تعیم مخاطب کر سکتا ہے۔مگر چونکہ لوکل انجمن ان دونوں پر مشتمل ہوتی ہے۔انصار بھی اس میں شامل ہوتے ہیں اور خدام بھی اس میں شامل ہوتے ہیں اس لئے گو وہ بحیثیت جماعت خدام اور انصار کو کوئی حکم نہ دے سکے مگر وہ ہر تقادم اور انصار اللہ کے ہر ممبر کو ایک احمدی کی حیثیت سے بلا سکتا ہے اور خدام اور انصار دونوں کا فرض ہے کہ وہ اس کے احکام کی تعمیل کریں ؟ ہے مجلس انصار اللہ کا پہلا دور حضرت خلیفہ ایسیح الثانین کی ہدایات و ارشادات کی روشنی میں ملیں وف ۱۳۱۹ ش م فتح ۱۳۲۱ مش انصار اللہ کی تنظیم قائم کرنے اور اس کے لئے ابتدائی طریق کار تجویز کرتے اور ڈھانچہ بنانے کے لئے ۲۷ وفا جولائی میش کو مسجد مبارک جولائی ۶۱۹۴۰ اماند قادیان میں صبح ساڑھے نو بجے ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں حضرت مولوی شیر علی صاحے ، آپ کے تینوں سکوری درست مولوی عبدالرحیم صاحب درد ، حضرت چودھری فتح محمد صاحب سیال اور تخانصاحب مولوی فرزند علی همان شامل ہوئے اور حسب ذیل فیصلے کئے گئے :- له الفضل وفا جولائی مش صفحه ۵ کالم ۲۰۱۔" " A صفحہ ۴ کالم ۴ +