تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 76
ЧА حضور نے بورڈنگ کے قیام سے قبل مشاورت ۱۹۳۵ء میں اس بورڈنگ کے زیر غور اصولوں کی نسبت خاص طور پر وضاحت فرمانی که :- بعض احباب کو یہ غلطی لگی ہے کہ گویا تحریک جدید کے ماتحت کوئی علیحدہ سکول قائم کیا جارہا ہے۔یہ نہیں بلکہ بورڈنگ قائم کیا گیا ہے۔بعض نے اپنے بچوں کے متعلق یہ کہا ہے کہ انہیں قادیان میں تعلیم دلائیں خواہ ہائی سکول میں داخل کر دیں خواہ مدرسہ احمدیہ میں گر تحریک جدید کے ماتحت جدا گانہ انتظام ہے وہ سکول نہیں بلکہ بورڈنگ ہے جو خاص طور پر مقرر کیا گیا ہے۔لڑکا چاہے مدرسہ احمدیہ میں پڑھے چاہے ہائی سکول میں پڑھے۔مگر في الحال ہائی سکول میں پڑھنے والوں کے لئے یہ انتظام کیا گیا ہے۔اس انتظام کے ماتحت اپنے لڑکوں کو دینے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ تحریک جدید کے دفتر میں یہ تحریر دیں کہ ہم نے اپنے فلاں بچہ کو اس تحریک کے ماتحت آپ کے سپرد کیا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ بچہ کے متعلق تحریک جدید والوں کو کھلی اختیارات دیئے جائیں لینی تربیت کے متعلق بچہ کے والد یا سرپرست کو دخل اندازی کا کوئی حق نہیں ہوگا۔ان سب بچوں کو ایک ہی قسم کا کھانا ملے گا سوائے اس کے کہ کوئی لڑکا ایسے علاقہ کا ہو جہاں روٹی کی بجائے چاول کھاتے ہیں اس کو چاول اور سائن دیں گے لیکن باقی سب کے لئے ایک ہی کھانا ہو گا اور نہیں ایک ہی رنگ میں رکھا جائے گا کوئی نمایاں امتیازہ اُن میں نہ ہونے دیا جائے گا تا کہ غریب، امیر اور چھوٹے اور بڑے کا امتیاز انہیں محسوس نہ ہو۔میں ان کا لباس بھی اور کھانا بھی قریب قریب ایک جیسا ہو گا۔پھر ان کی دینی تعلیم پر زیادہ زور دیا جائے گا۔ہاں سکول میں پاس ہونے کے لئے سکول کی تعلیم بھی دلائی جائے گی۔مگریہ تعلیم دلانا مقصد نہ ہوگا بلکہ اصل مقصد دینی تعلیم ہوگی۔بڑی عمر کے لڑکوں کو تہجد بھی پڑھائی جائے گی اور کسی ماں باپ کی شکایت نہ سنی بھائے گی۔یہ تو ہو سکے گا کہ لڑکے کو اس بورڈنگ سے خارج کر دیا جائے مگر یہ نہ سنا جائے گا کہ لڑکے کو یہ تکلیف ہے۔اس کا یوں ازالہ کرنا چاہیے یا اس کے لئے یہ انتظام کیا جائے۔اس بورڈنگ کے سپرنٹنڈنٹ سے سہارا عہد ہے کہ وہ ان بچوں میں باپ کی طرح رہے گا۔اور اگر لڑکوں میں سے کوئی ناروا حرکت کرے گا تو اس کی سزا خود لڑکے ہی تجویز کریں گے۔مثلاً یہ کہ فلاں نے جھوٹ بولا اُسے یہ سزا ملنی چاہیے۔اس قسم کے اصول ہیں جو اس بورڈنگ کے لئے مقرر کئے گئے ہیں اور ابھی میں غور کر رہا ہوں میں