تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 77
4 جو دوست اس تحریک کے ماتحت اپنے بچوں کو داخل کرنا چاہیں وہ تحریہ دے بھائیں۔صرف یہاں کے کسی مدرسہ میں داخل کرنا دینا کافی نہ ہوگا۔اسی طرح انہیں بورڈنگ یا مدرسہ کے متعلق کوئی شکایت لکھنے کا حق نہ ہوگا۔انہیں جو کچھ لکھنا ہو انچارج تحریک کو لکھیں۔وہ اگر مناسب سمجھے گا تو ومضل دے گا " اے بور ٹانگ کے قیام پر ضور نے اس کی نسبت بعض اہم ہدایات دیں مشکو ا۔طلباء کے جسمانی قوی اور حواس خمسہ کو ترقی دینے والی کھیلیں رائج کی بجائیں۔- قصور وار طالب علم کی سزا لڑ کے ہی تجویز کریں۔کھانے کا انتظام بھی لڑکوں کے ہاتھ میں دیا جائے۔سلام طلباء کی اخلاقی تربیت کی طرف تو یہ دکی جائے۔مثلاً انہیں بتایا جائے کہ بدظنی اور نگرانی میں کیا فرق ہے؟ اور اس کے نہ جاننے سے کیا نقصانات ہوتے ہیں: از کون کو اسلامی تاریخ سے آگاہ کیا جائے۔ایک پہارٹ بنائے جائیں جن میں دکھایا جائے کہ پہلی صدی میں کہاں کہاں مسلمانوں کی حکومت قائم ہونی تھی۔دوسری میں کہا نا کہاں۔تیسری صدی میں اُسے کس قدر وسعت حاصل ہوئی بہتی کہ چودھویں صدی تک ساری کیفیت دکھائی جائے۔اس طرح ہر طالب علم کے سینے میں ایک ایسا زخم لگے گا جو اسلام کی فتح سے ہی درست ہو گا۔ی کی ہدایت دی کہ " طلباء کے ہر کمرہ میں اس قسم کے نقشے ہوں جن سے ہمارے لڑکے یہ سمجھ سکیں کہ سان پہلے کیا تھے اور آج کیا ہیں جب تک ہم اپنے بچوں کے سینوں میں ایک آگ نہ بھر دیں گے اور جب تک اُن کے دل ایسے زخمی نہ ہو جائیں گے جو یہ سنتے رہیں ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔اسلام کی ترقی یہ چاہتی ہے کہ ایسی تاثیر پیدا ہو جو پرانی یاد کو تازہ رکھے اور پل بھر چین نہ لینے دے جب تک یہ نہیں ہوتا ہماری جدوجہد سخت کڑور رہے گی اور زیادہ شاندار نتائج پیدا نہیں ہوں گے۔یہ چیزیں ہیں جو تحریک بدید کے مرکز اور بورڈنگ میں کام کرنے والوں کو مد نظر رکھنی چاہیں گے مولوی عبدالرحمن صاحب انور کا بیان ہے کہ حضرت امیر المومنین کی طرف سے بورڈنگ کے افسروں کو یہ ہدایت بھی کھتی کہ دو بچوں کی نسبت یہ ریکارڈ رکھیں کہ ان کی طبیعت کا رحجان کین امور کی طرف ہے۔مہ جب وہ بورڈنگ سے فارغ ہوں تو ان کے والدین کو رپورٹ کی جائے کہ اُن کے رجحان طبع کی وجہ سے فلاں لائن کا انتخاب کرنا زیادہ مفید و مناسب ہوگا۔14 رپورٹ مجلس مشاورت ۹۳ صفحه ۱۶ و ۱۷ و الفضل ۲۵ صفر و له الفضل المال الا صفحه ۳-۹۴