تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 69
۶۵ اس پر سب احمدکی چپکے سے باہر نکل گئے۔ایاز صاحب کے بعد کیپٹن ڈاکٹر سید محمدحسین صاحب اور حضرت چودھری غلام انگر صاحب ان کی اہم امیرالمجاهدین مقدر ہوئے اشد احد صاحب المال سپرنٹنڈنٹ وکالت مال اول کی ان کے معانی ذکر مات ایک گاؤں بھنگالا میں چھڑیوں سے زدو کوب کئے گئے۔بائیکاٹ اتنا سخت تھا کہ احمدی پانی تک سے محروم کر دیے گئے اور ان کو ایک گوردوارہ سے پانی لینا پڑتا تھا میں علی محمد صاحب ساکن گھسیٹ پور تحصل مکیریاں کا بیان ہے کہ چود کار فضل دین صاحب ہو تہ گاؤں کے ایک احمدی تھے جن کی اعوان برادری نے ان کی فصل اُٹھانے کی ممانعت کر دی۔یہ خبر مکبر بال پہنچی توڈاکٹر این صورت اور حضرت با به فقیر علی صاحب ، شیخ نورالدین صاحب سید لال شاه صاب (آئنیہ اور بعض دوسرے مجاہدین در انتیال ہے کہ اس گاؤں میں پہنچے اور فصل کاٹنا شروع کر دی۔اعوان احمدی رضا کاروں کا یہ جذبہ اخوت و محبت دیکھ کر بہت متاثر ہوئے اور بائیکاٹ ختم کرا دیا تھ کچھ عرصہ بعد جب چودھری محمد شریف صاحب ایڈووکیٹ منٹگمری امیر المجاہدین مقترہ ہوئے تو نکیریاں شہر کے ذیلدار خوشحال محمد صاحب نے چودھری صاحب سے ربط ضبط کے باعث منادی کرادی کہ احمدیوں کو کوئی تکلیف نہ دے۔اس پر وہاں امن ہو گیا اور عام مسلمانوں نے سودا سلف دینا شروع کر دیا۔سنہ لے تحریک جدید کے پرانے ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ فروری ۱۹۳۵ء میں آپ امیر المجاہدین کے طور پر یہاں خدمات بھا لا ر ہے تھے ؟ ے آپ مارچ ۹۳۵ہ میں آمد کی ہوئے تھے مئی شائر میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے آپ کو غیر احمدی بچوں کو پڑھانے کے لئے مکیریاں بھیجوا دیا۔ان دنوں مختار احمد صاحب ایاز امیر المجاہدین تھے چند روز بعد ایاز صاحب کی رخصت ختم ہو کہ نا سید محمدحسین صاحب جو وہاں موجود تھے امیر المجاہدین مقرر کئے گئے ؟ سے بیان میان علی محمد صاحب ساکن گھسیٹ پور تصل مکیریاں مال احمد نگر ضلع جھنگ * + شه کرم چودھری محمد صدیق صاحب ایم۔اسے واقف زندگی انچارج خلافت لائیبریری ربوہ کا بیان ہے کر ۱۹۳۵ میں کمی یاں کے مشن میں مجھے بھی تبلیغ کا موقعہ ملا اور بہبو وال چھینیاں مقام تعین کیا گیا۔عموماً جمعہ کے روز ہفتہ وار رپورٹ کے لئے بکریاں آنا پڑتا تھا۔مکیریاں میں شروع شروع میں بڑی مخالفت تھی اور کنوؤں سے پانی بھرنا بھی بند کر دیا گیا تھا۔اس لئے مشن ہاؤ) کے صحن میں ہی کنواں کھود لیا گیا تھا اور اسی سے پانی لیا جاتا تھا ایک دن مغرب کی نماز با جماعت ہورہی تھی کہ مخالفین نے باہر سے گوبر کی پا تھیوں کی بوچھاڑ شروع کر دی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے سب نمازیوں کو بچا لیا جب مکیریاں میں سخت سیفات تھی تو اس وقت ایک ہمسایہ عورت مسماۃ کریم بی بی نے احمدی احباب کی ہر رنگ میں مدد کی اور ایک حد تک مخالفین کا مقابلہ بھی کیا۔بعد میں اس کی اولاد میں سے ایک لڑکے دین محمد کو احمدیت کی قبولیت کی توفیق ملی اور وہ قادیان میں آگئے۔تگیریان کا مشن ہائوس حضرت مولوی محمد وزیر الدین صاحب رضی اللہ عنہ کا تھا جو ۳۱۳ صحابہ میں سے تھے۔میرے ہوں محمد عزیز الدین صاحب (این مولوی محمد وزیر الدین صاحب اسٹیشن ماسٹر نے اپنی وصیت ( جو کہ لیے کی تھی میں وہ مکان صدر انہیں (جو کولی ، احمدیہ قادیان کو دے دیا تھا اور اسی میں پیشن قائم کیا گیا تھا۔