تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 68
بعض کام عمدگی سے کئے جاسکتے ہیں۔۔۔غرض دنیا کے ایسے حصے یہاں تجارتی کام اعلیٰ پیمانے پر کئے جا سکتے ہیں، ہم نے معلوم کئے ہیں اور ہر جگہ کے نقشے تیار کئے ہیں۔ان علاقوں میں تھوڑی سی ہمت کر کے ہم بیکاروں کو کام پر لگا سکتے ہیں اور بہت سے تبلیغی سینٹر قائم کر سکتے ہیں اور یہ کام ایسا اعلی ہوا ہے کہ جس کی اہمیت ابھی جماعت کو معلوم نہیں اور گو یہ معلومات کا ذخیرہ ابھی صرف چند کاپیوں میں ہے لیکن اگر یورپ والوں کے سامنے یہ کا پیاں پیش کی جائیں تو وہ ان کے برلے لاکھوں روپے دینے کے لئے تیار ہو جائیں مگر افسوس ابھی ہماری جماعت نے اس کام کی اہمیت کو نہیں سمجھا، اسی طرح میں تجارتی طور پر مختلف مقامات کے نقشے بنوا رہا ہوں۔اور اس امر کا پتہ لے رہا ہوں کہ سپین اور جاپان اور دوسر ممالک کے کیسی کیسی حصہ میں کون کونسی صنعت ہوتی ہے تاکہ ہم اپنی جماعت کے تاجروں یا ان لوگوں کو جو تجارت پیشہ خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں ان علاقوں میں پھیلا دیں ؟ لے تبلیغی جائزہ کی رپورٹیں موصول ہونے پر حضرت خلیفہ ایسیح الثانی نے تحریک جدید کے زیر انتظام میریان میشن اخروی امت میں پر بلی کا امارات میں میں ایران ولی ما با ارا اور وید اول میں بلی اراک کا میں ضلع ہوشیار ہوں پیروال و ضلع امرتسر) کے میشن بالخصوص قابل ذکر ہیں۔مکیریاں میشن کا قیام مختار احمد صاحب ایاز ( پہلے امیر المجاہدین کی کوششوں سے ہوا۔مرکز کے لئے ایک احمدی مولوی محمدعزیز الدین صاحب سٹیشن ماسٹر این حضرت مولوی محمد وزیر الدین صاحب (۳۱۳) نے اپنا مکان ہبہ کر دیا تھا۔اس مشن کی ذیلی شاخیں حسب ذیل مقامات پر کھولی گئیں چھنیاں۔بہتو وال۔بہت پور سے مکیریاں شہر تو مخالفت کا گڑھ تھا۔مگر ارد گرد علاقہ میں بھی مخالفین کی تکالیف بڑی صبر آزما تھیں حتی کہ جیبا که میان علی محمد صاحب ساکن گھسیٹ پور حلقہ مکیریاں کی روایت ہے کہ ایک بار احمدیوں کو زندہ جلا دینے کا منصوبہ تیار کیا گیا۔واقعہ یہ ہوا کہ ایاز صاحب موضع ڈگریاں میں عید پڑھنے کے لئے گئے۔اُن کے ساتھ حضرت بابو فقیر علی صاحب بھی تھے۔ناگاہ انہیں پتہ چلا کہ جس مکان میں وہ جمع ہیں مخالفین اُسے آگ لگا دینے کی سازش کر رہے ہیں۔ه تقریر فرموده ۲۶ دسمبر ۱۹۳۷ مطبوعه الفضل به ار مارچ ۱۹۳۲ء صفحه ۴* "افضل" ۲۹ اگست ۱۹۳۵ار صفحه ۸۔ان مشنوں میں واقعین کو برائے نام گذارہ ملتا تھا اور باقی دوست بعض ایام وقف کر کے تشریف لے جاتے تھے (الفضل اور دسمبر را تحریک جدید کے پرانے ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مشن دھار یوال میں قائم کیا گیا تھا اور ایک کراچی میں بھی " سے علی محمد صاحب ساکن گھسیٹ پر حلقہ مکیریان حال احمد نگر کا بیان ہے کہ شروع میں وہ مجاھدین کا کھانا پکانے کے لئے روزانہ اپنے گاؤں سے آتے تھے ہے