تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 65 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 65

۶۱ صرف لاگت پر ملیں گے کوئی نفع حکمہ ان سے نہیں لے گا، ہو سکتا ہے کہ اگر ضرورت زیادہ ہو اور جماعت پورے ترویج کی متحمل نہ ہو سکے تو کچھ حصہ قیمت پر اور کچھ مفت ارسال کیا جائے۔بنگال، سندھ اور صوبہ سرحد کی جماعتوں کو چاہیے کہ بنگالی، سندھی اور پشتو میں ان اشتہاروں کے تراجم شائع کرنے کی کوشش کریں۔اس میں ایک معقول صد تک دفتر تحریک جدید ان کی امداد کرے گا۔مگر فیصلہ بذریعہ خط و کتابت ہونا چاہیئے۔ہر جماعت یا فردان اشتہاروں کے چسپاں کرنے اور تقسیم کرنے کا انتظام فورا کر چھوڑے۔ہر جماعت یا فرد کو اس امر کا انتظام رکھنا چاہئے کہ ہر اشتہار ایسے ہاتھ میں جائے جہاں اس کا فائدہ ہو اور اچھی جگہ پر پوسٹر چسپاں ہو۔سارے پوسٹر ایک دن نہ لگائے جائیں کیونکہ بعض شدید دشمن انہیں پھاڑ دیتے ہیں بلکہ دو تین دن میں لگیں۔تاکہ سب لوگ پڑھ سکیں۔-4 اشتہاروں کی اشاعت کے بعد جماعت کے افراد ان کے اثر کا اندازہ لگاتے رہا کریں اور مرکز کو اس کی اطلاع دیتے رہا کریں تا کہ آئیندہ اشتہاروں میں اس تجربہ سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔سب اطلاعات میرے نام یا سکرٹری دفتر تحریک جدید کے نام ہوں۔والسلام خاکسار میرزا محمود احمد خلیفہ ایسیح الثانی امام جماعت احمدیہ) نے جناب مولوی عبد الرحمن صاحب الورہ کا بیان ہے کہ حضور کی طرف سے ان اشتہارات کا مضمون جمعرات کے روز عصر کے بعد ملنا شروع ہوتا تھا جوں جوں حضور مضمون تحریر فرماتے دفتر تحریک جدید میں بھجوا دیتے اور ہدایت یہ تھی کہ ساتھ ہی ساتھ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب بھی اس کو دیکھ لیں اور پھر کا تب کو کتابت کے لئے دے دیا جائے۔اس طرح رات کے بارہ ایک بجے تک کتابت ختم ہوتی۔ایک کاپی اشتہار کی صورت میں لکھوائی جاتی اور دوسری کا پی پمفلٹ کے طور پرہ۔ٹریکٹ راتوں رات چھاپ دیئے بھاتے اور صبح کی پہلی گاڑی سے خاص آدمی کے ذریعہ سے نمازہ جمعہ سے قبل بٹالہ ، امرتسر، لاہور اور لائلپور تک پہنچا دیئے جاتے تھے۔رکیٹوں کی تقسیم حضرت خلیفہ ایسیح الثانی کی باقاعدہ ہدایات اور نگرانی کے ماتحت ہوتی تھی۔چنانچہ حضورت نے خود بتایا کہ : "الفضل قادیان دارالامان ۲۹ جون ۱۹۳۵ئه صفحه ۲ ۰