تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 56
۵۲ سیکرٹری کے عملہ کو رات کے وقت بھی مسلسل کام کرنا پڑتا تھا۔چنانچہ شیخ یوسف علی صاحب اپنی رپورٹ میں لکھتے ہیں کہ " یہ سارا کام دفتر میں ہی تھا جس کے سبب کام پہلے سے دگنا ہو گیا۔با وجود بعض واقفین سے کام لینے کے دفتر کے کارکنان کو علاوہ دفتر ٹائم کے راتوں کو بیٹھ کر کام کرنا پڑا اور ڈاک کی بر وقت تعمیل میں پوری کوشش کی ہے فنانشل سیکرٹری کا تقرر جہانتک تحریک جدید کامل مطالبات سے تعلق کام کا تعلق تا به ندرت سیا امام نے ہوا اس حضرت امیر المومنین نے ۲۲ نومبر اس سے چودھری برکت علی خان صاحب کو سپرد رمائی اور انکو فاش کرو کمتر یا چودھری برکت علی صاحباس عہدہ پر قریباً بین سری تک فائو ر ہے۔اور یکم اپریل ار کو ریٹائر ہوئے۔بعد میں یہ عہدہ وکیل المال“ کے نام سے موسوم ہوا۔اپنے زمانہ عمل میں حضرت چودھری صاحب نے اتنی محنت ، اخلاص اور فرض شناسی سے کام کیا کہ خود حضرت خلیفقہ السیح الثانی نے اظہار خوشنودی کرتے ہوئے فرمایا :- ود هری برکت علی صاحب کو نہینوں رات کے ۱۲ بجے تک تحریک جدید کا کام کرنا پڑا، اسی طرح تحریک جدید کے دفتر کے کام کرنے کا وقت ۱۲ گھنٹے مقرر ہے۔اس سے زیادہ ہو جائے تو ہو جائے کم نہیں کیونکہ یہ اقل مقدار ہے، کے پھر فرمایا :- چودھری برکت علی صاحب۔۔۔۔ان چند اشخاص میں سے ہیں جو محنت ، کوشش اور اخلاص سے کام کرنے والے ہیں اور جن کے سپرد کوئی کام کر کے پھر انہیں یاد دہانی کی ضرورت نہیں ہوتی " نیز ارشاد فرمایا :- جہاں تک روپیہ جمع کرنے کا سوال ہے۔میں چوہدری برکت علی نماں صاحب کے کام پر بہت ہی خوش ہوں۔انہوں نے تحریک جدید میں حیرت انگیز طور پر روپیہ جمع کرنے کا کام کیا ہے " ھے ے رپورٹ سالانہ مینہ جات صدر امین احمد بہ یکم مئی ماه لغایت ۳۰ را پریل ۱۱۳۶ صفحه ۲۰۳ به نه اصحاب امیر مجله هفتم صفر ۲۳۲ مولفہ ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اسے ناشر امیہ بکریو بود ضلع جنگ پاکستان طبع اول اگست شاد کے اس سلسلہ میں ناظر صاحب بیت المال کی طرف سے افضل اور دسمبر دو صفحہ ۲ کالم ۲ پر حسب ذیل اعلان شائع ہوا : حضرت ایرانی خلیفه ای الثانی ایاللہ تعالی کے مال کے خطبات میں جومالی مطالبات مختلف رنگوں میں احتیاب جماعت سے کئے گئے ہیں۔ان کے متعلق تحریک اور خط و کتابت اور حساب کتاب رکھنے کا کام چوہدری برکت علی خان صاحب سرانجام دیں گے جو آڈیٹر صدر انجمن احمدیہ نہیں ہے کے رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ او صفحہ ۹۰-۹۱ - شے رپورٹ مجلس مشاورت و در Jero 11 صفحه ۹۵-۰۹۶