تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 57
۵۳ عرض کہ تحریک جدید کی تاریخ میں چودھری صاحب موصوف کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔دفتر فنانشل سیکرٹری کے چودھری برکت علی صاحبہ کا بیان ہے کہ۔" ۲ نومبر کو حضور نے ایک خطبہ کے ذریعے تحریک جدید کا ابتدائی متفرق کوائف آغاز فرمایا اور اس کے دوسرے دن صبح ہی حضور لاہور تشریف لیجا ر ہے تھے احمید یوکی حضور کے انتظارمیں کھچا کھچ احباب کرام سے بھرا ہوا تھا کہ حضور مسجد مبارک کی چھوٹی سیڑھیوں جو دفتر محاسب کے قریب پگھلتی ہیں تشریف لائے۔خاکسار دفتر محاسب کے دروازے کے سامنے کھڑا تھا۔خاکسار نے السلام علیکم عرض کر کے مصافحہ کیا تو حضور نے مسکراتے ہوئے فرمایا۔آپ تحریک کا کام شروع کر دیں اور ایک ہزار احباب کے پتے نکالیں۔خاکسار نے دل میں آمنا و صدقنا کہا۔حضور لاہور سے جمعرات کے دن واپس تشریف لائے تو فاکستانی ایک ہزار کی فہرست پیش کر دی۔وو اس تحریک کے وعدوں کے خطوط آرہے تھے۔حضور نے دفتر پرائیویٹ سکرٹری کو حکم دیا کہ وہ ان کا حساب بنا کر پیش کریں۔مگر دفتر ہو حساب پیش کرتا وہ حضور کے اپنے ذہنی حساب سے نہ ملتا۔اس پر ایک جمعرات کی نماز مغرب کے بعد خاکسار کو فرمایا کہ آپ وعدوں کے تمام خطوط دفتر سے لے کو اُن کا حساب بیتا کو گل دس بجے قبل جمعہ پیش کریں۔میں اس بارہ میں اعلان کرنا چاہتا ہوں۔میں اسی وقت دفتر پہنچا دیکھا تو میز پر خطوط پڑے تھے۔دفتر والوں نے کہا یہی سارے خطہ ہیں آپ لے لیں ہیں نے گئے تو پانصد خطوط تھے میں اسی وقت پہلے محلہ دار الستہ گیا۔وہاں میں نے خواجہ حسین الدین صاحب اور قاری محمد امین صاحب کو ڈیڑھ ڈیڑھ سو خطوط دے کر کہا کہ آج ساری رات کام کرتا تا صبیح ہی حساب بل جائے۔انہوں نے خوشی سے کہا کہ جب تک ہم یہ کام ہو یا نہ کر لیں آرام نہ کریں گے اور دو سو خط میں نے اپنے واسطے رکھے صبح جب میں اُن کے پاس پہنچا تو دونوں نے حساب تیار کر لیا ہوا تھا۔مجھے دے دیا۔۔۔میں نے یکجائی حساب بنایا تو ساڑھے سولہ ہزار کے وعدے ہوئے۔میں 4 بجے محلہ دارالفضل سے اپنے گھر سے شہر کو آرہا تھا میاں میر خان مصبا حضور کے باڈی گارڈ ملے۔انہوں نے کہا کہ حضور آپ کو یاد فرماتے ہیں۔میں نے پیش ہو کر عرض کیا کہ حضور ساٹھے سولہ ہزار وعدوں کی میزان ہے حضور نے فرمایا درست معلوم ہوتی ہے۔میرے ذہنی حساب سے ملتی ہے۔خاکسار نے عرض کیا کہ حضور نے مطالبہ ساڑھے سترہ ہزارہ کا فرمایا تھا۔گل اور آج کی