تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 50
خلیفه ای الثانی کا وجود خندان حضرت بی مولوں میں سب سے بڑھ کر میں شخصیت نے تھری جید کے مطالبات پر ٹور کی شان سے عمل کر کے دکھا یا وہ خود حضرت خلیفہ ایسی روانی محتم تحریک جدید بن گیا رضی اللہ عنہ تھے جن کی پوری زندگی تحریک جدید کو کامیاب بنانے میں صرف ہوئی جتنی کہ آپ کا مقدس وجود مجسم تحریک جدید بن گیا۔تحریک جدید کے ابتدائی ایام میں حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی کی مصروفیات حضور کی مصروفیات کا یہ عالم تا کہ کبھی ایک بچے رات سے پہلے سو نہیں سکے اور بعض اوقات صبح تین چار بجے تک کام میں منہمک رہے حضور کی بے پناہ مصروفیت کی کسی قد تفصیل حضور کے اپنے ہی الفاظ میں ملاحظہ ہو: ۱۷ ار اکتوبر سالٹ سے لے کر آجتک سوائے چار پانچ راتوں کے میں کبھی ایک بجے سے پہلے نہیں سوسکا اور بعض اوقات دو تین چار بجے سوتا ہوں۔بسا اوقات کام کرتے کرتے دماغ معطل ہو جاتا ہے۔گر یکیں سمجھتا ہوں کہ جب اسلام کا باطل سے مقابلہ ہے تو میرا فرض ہے کہ اسی راہ میں جان دے دوں اور جس دن ہمارے دوستوں میں یہ بات پیدا ہو جائے وہی دن ہماری کامیابی کا ہو گا۔کام جلدی جلدی کرنے کی عادت پیدا کرو۔اُٹھو تو جلدی سے اٹھو۔چلو تو چستی سے چلو کوئی کام کرنا ہو تو جلدی جلدی کرو اور اس طرح جو وقت بچے اسے خدا کی راہ میں صرف کرد۔میرا تجربہ ہے کہ زیادہ تیزی سے کام کیا جا سکتا ہے میں نے ایک ایک دن میں سو سو صفحات لکھے ہیں اور اس میں گو بازوشل ہو گئے اور دماغ معطل ہو گیا۔مگر میں نے کام کو ختم کر لیا۔اور یہ تصنیف کا کام تھا جو سوچ کر کرنا پڑتا ہے۔دوسرے کام اس سے آسان ہوتے ہیں۔اسی ہفتہ میں میں نے اندازہ کیا ہے کہ میں نے دو ہزار کے قریب رقعے اور خطوط پڑھتے ہیں اور بہتوں پر جواب لکھے ہیں اور روزانہ تین چار گھنٹے ملاقاتوں اور مشوروں میں بھی صرف کرتا رہا ہوں۔پھر کئی خطبات صحیح کئے ہیں۔اور ایک کتاب کے بھی دو سو صفحات درست کئے ہیں بلکہ اس میں ایک کافی تعداد صفحات کی اپنے ہاتھ سے لکھی ہے" سے - گمیرا کام سپاہی کی حیثیت رکھتا ہے۔میرا فرض یہی ہے کہ اپنے کام پر ناک کی سیدھ پھلتا جاؤں۔اور اسی میں بھان دے دوں۔میرا یہ کام نہیں کہ عمر دیکھوں۔میرا کام یہی ہے کہ مقصود کو سامنے رکھوں "الفضل " ۱۲ فروری ۱۹۳۵ در صفحه ۸ کالم ۱+