تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 51 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 51

اور اُسے پورا کرنے کی کوشش میں لگا رہوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں اس یقین سے کھڑا ہوں کہ یہ مقصود ضرور حاصل ہوگا اور یہ کام پورا ہو کے رہے گا۔یہ رات دن میرے سامنے رہتا ہے اور بسا اوقی میرے دل میں اتنا جوش پیدا ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالے کا فضل نہ ہو تو میں دیوانہ ہو جاؤں۔اس وقت ایک ہی چیز ہوتی ہے جو مجھے ڈھارس دیتی ہے اور وہ یہ کہ میری یہ سکیمیں سب خدا کے لئے ہیں اور میرا خدا مجھے ضائع نہیں کرے گا ورنہ کام کا اور فکر کا اس قدر بوجھ ہوتا ہے کہ یہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ عقل کا رشتہ ہاتھ سے چھوٹے بھائے گا اور میں مجنون ہو جاؤں گا مگر اللہ تعالے نفس پر قابو دیتا ہے۔فکمت میں سے روشنی کی کرن نظر آنے لگتی ہے۔اور چاروں طرف مایوسی ہی مایوسی کے معاملہ کو اللہ تعالی امید اور خوشی سے بدل دیتا ہے اور اللہ تعالے کا میرے ساتھ یہ معاملہ شروع سے ہے" سے یہ زمانہ ہمارے لئے نہایت نازک ہے۔مجھ پر بیسیوں راتیں ایسی آتی ہیں کہ لیٹے لیٹے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جنون ہونے لگا ہے اور میں اٹھ کر ٹہلنے لگ جاتا ہوں۔غرض یہی نہیں کہ واقعات نہایت خطر ناک پیش آرہے ہیں۔بلکہ بعض باتیں ایسی ہیں جو ہم بیان نہیں کر سکتے۔مجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول یاد آتا ہے۔کسی نے ان سے کہا خالد کو آپ نے کیوں معزول کر دیا۔آپ نے فرمایا تم اس کی وجہ پوچھتے ہو۔اگر میر سے دائن کو بھی پتہ لگ جائے کہ میں نے اُسے کیوں ہٹایا تو یکھیں دامن کو پھاڑ دوں۔تو سلسلہ کے خلاف ایسے سامان پیدا ہو رہے ہیں کہ جو غیر کی ذات کے سوا کسی کو معلوم نہیں اور جو کچھ میں بتاتا ہوں وہ بھی بہت بڑا ہے اور اس سے بھی نیند حرام ہو جاتی ہے اور میں اپنے ساتھ کام کرنے والوں کی نیند حرام کر دیا کرتا ہوں۔۔۔شریعت کہتی ہے کہ اپنے جسم کا بھی خیال رکھو مگر پھر بھی مصروفیت ایسی ہے کہ جسمانی تکلیف کی کوئی پروا نہیں کی جاسکتی “ ہے پھر فرمایا :- بعض لوگوں کو میں نے دیکھا ہے کہ تکلیف سے گھبرا جاتے ہیں یا کہیں زیادہ تنخواہ کی امید ہو تو پہلے جاتے ہیں۔بعض کام سے جی چراتے ہیں۔بعض کام کے عادی نہیں ہوتے حالانکہ وقف کے معنی یہ ہیں کہ سمجھ لیا جائے اب اسی کام میں موت ہوگی نہ دن کو آرام ہو نہ لة الفضل " الر فروری ۱۹۳۵ صفحه ۶ کالم ۳ + سے رپورٹ مجلس مشاورت ۱۳۶ه صفحه ۰۹۱۹۰